انوارالعلوم (جلد 12) — Page 41
انوار العلوم جلد ۱۲ باب دوم تحفه لار ڈارون یور ایکسیلنسی آپ کو اس عظیم الشان کام پر مبارک باد دینے کے بعد جس کی وجہ وجہ سے مجھے امید ہے کہ آپ کا نام انگلستان کے بہترین آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ کیلئے یاد رکھا جائے گا میں آپ کے سامنے وہ بہترین تحفہ پیش کرتا ہوں جو دنیا کے خزانوں میں آپ کو نہیں مل سکتا اور جس کا ملنا محض خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور وہ تحفہ وہ پیغام حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترقی دینے اور اپنا قرب عطا کرنے کیلئے ارسال فرمایا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ پر یہ پ پر یہ دعوت گراں گزرے یا آپ اسے آپ اسے ایک مجنونانہ خیال سمجھیں لیکن ہر انسان اپنے یقین کے مطابق عمل کرتا ہے اور ہم چونکہ آپ سے محبت رکھتے اور آپ کی قدر کرتے ہیں اس لئے اس امر پر مجبور ہیں کہ اپنے دل کے یقین کے مطابق وہ صداقت آپ کے سامنے پیش کریں جس سے بڑھ کر کوئی چیز اس دنیا میں قیمت نہیں رکھتی۔ یور ایکسیلنسی ! وہ خدا جس نے آدم کو بھیجا اور نوح کو مبعوث کیا اور ابراہیم پر اپنا فضل کیا اور موسیٰ کو اپنا برگزیدہ بنایا اور مسیح علیہ السلام کو اپنے جلال کے تخت پر اپنے دائیں جگہ دی اس نے حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری زمانہ کا نجات دہندہ کر کے مبعوث فرمایا ہے تاکہ آپ وہ سب کچھ سکھائیں جس کی برداشت اس سے پہلے دنیا نہیں رکھتی تھی اور تا آپ سے دنیا تسلی پائے اور دنیا کا سردار آپ کے ذریعہ سے ہمیشہ کیلئے قید کیا جائے۔ اور پھر اسی خدا نے اس زمانہ میں حضرت مسیح ناصری کی پیشگوئیوں کے تحت حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانی قرار دے کر مبعوث فرمایا ہے کیونکہ لکھا تھا کہ اس کا آنا مشرق سے ہو گا اور اسی طرح طبعی سامانوں سے ہو گا جس طرح مشرق سے مغرب کی طرف روشنی پھیل جاتی ہے۔ او اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس ملک سے واپسی پر اللہ تعالی کے اس پیغام پر غور کریں گے جو غریب اور امیر بادشاہ اور رعایا سب کیلئے برابر ہے اور بندوں کے ساتھ معاملہ میں ایک اعلیٰ نمونہ دکھانے کے بعد خالق کے تعلقات کو بھی اعلیٰ پیمانہ پر قائم کریں گے۔