انوارالعلوم (جلد 12) — Page 33
اتوار العلوم جلد ۱۳ سوسو تحفه نار ڈارون أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ دیباچه یہ رسالہ اُن خدمات کے اعتراف میں جو ہندوستان کی آزادی کے حصول کے بارہ میں لارڈارون (LORD IRWIN) سے ظہور میں آئی ہیں اور اُس اعلیٰ اخلاقی نمونہ کی یاد گار کو تازہ رکھنے کیلئے جو انہوں نے اپنے پانچ سالہ ولایت ہند کے زمانہ میں دکھایا ہے جماعت احمد یہ کے دس ہزار افراد نے جو ہندوستان کے سب صوبوں کے سو شہروں میں بسنے والے ہیں ہزایکسیلنسی لارڈارون کے ان کے اپنے عہدہ ولایت ہند سے فار فارغ ہونے کے موقع پر پیش کیا ہے اس امر کے اظہار کیلئے کہ اس رسالہ کا پیش کرنا ایک وسیع جماعت کے جذبات تشکر کی ترجمانی کرتا ہے یہ شرط کی گئی تھی کہ ہر شخص جو اس میں حصہ لینا چاہے صرف ایک آنہ چندہ ادا کر سکتا ہے۔ تاکہ یہ تحفہ بہت سے آدمیوں کی طرف سے پیش کیا جا سکے اور تاکہ اس کا مادی پہلو اخلاص کے پہلو کے پیچھے بالکل چھپ جائے ۔ بجائے اس کے کہ اس تحریک کو عام کیا جاتا یہ مناسب سمجھا گیا کہ بشمولیت قادیان جو سلسلہ احمدیہ کا مرکز ہے صرف ہندوستان کے سو شہروں کے احمدیوں کو اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے ورنہ اگر اس تحریک کو عام کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں جماعت احمدیہ کے افراد اس اعتراف میں شمولیت کرتے۔ خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثاني امام جماعت احمد یہ قادیان ۲۷ مارچ ۱۹۳۱ء