انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 29

انوار العلوم جلد ۱۳ (۲) لکھنو اور اس کے مضافات ۲۹ اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں (۳) پنجاب (۴) رامپور اور اس کے مضافات (۵) بھوپال اور اس کے مضافات (۶) آگرہ اور اس کے مضافات (۷) اعظم گڑھ ا عظم گڑھ اور الہ آباد اور اس کے مضافات (۸) بہار (۹) حیدر آباد اس طرح علمی لحاظ سے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ا اسلامی یعنی عربی اور فارسی اثر ہندو یعنی سنسکرت اور ہندی بھاشا اثر جب سوالات رسالہ کے دفتر میں آئیں تو ادارہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دے مثلاً جو سوال کسی لفظ کے استعمال اس کی شکل، اس کی تذکیر و تانیث کے متعلق ہوں انہیں ایک جگہ جمع کر کے شائع کرے اور ان کے متعلق مذکورہ بالا حلقوں کے احباب سے درخواست کرے کہ وہ نہ صرف اپنی علمی تحقیق بتائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ ان کے علاقہ میں وہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں ، اگر ہوتا ہے تو کس شکل میں اور کن کن معنوں میں ؟ اس طرح دو فائدے حاصل ہونگے ایک تو اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس خاص لفظ یا محاورہ کے متعلق اردو بولنے والوں کی اکثریت کس طرف جا رہی ہے اور اس سے اردو کی ترقی کی رو کا اندازہ ہو سکے گا۔ دوسرے علمی تحقیق بھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی طبائع فیصلہ کر سکیں گی کہ اس بارہ میں اردو کے حق میں کونسی بات مفید ہے۔ آیا تحقیق کی پیروی کرنی چاہئے یا غلط العام کی تصدیق کہ یہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اسی طرح جس لفظ کے متعلق بحث ہو اگر سنسکرت یا ہندی بھاشا اس کا ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اور عربی فارسی ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اس پر روشنی ڈالنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اس طرح اور بہت سی تقسیمیں کی جاسکتی ہیں جو اس کلب کو زیادہ دلچسپ بنانے کا باعث ہو سکتی ہیں۔ کلب کا کام فیصلہ کرنا نہ ہو بلکہ ہر پہلو کو روشنی میں لانا ہو۔