انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 26

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۶ اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں ۴۔ ہمارا علمی طبقہ غیر زبانوں میں سوچنے کا عادی ہو گیا ہے۔ اور اس وجہ سے اس کی تحقیق و تفتیش سے اردو نفع نہیں اٹھا سکتی۔ ۔ ٹائپ نہ ہونے کے سبب آنکھوں کو اس کے حروف سے وہ مؤانست نہیں پیدا ہوتی جو ٹائپ پر چھپنے والی زبانوں کے حروف سے ہو جاتی ہے اور اس وجہ سے لوگوں میں شوق تعلیم سرعت سے ترقی نہیں کر سکا اور کتابوں کی اشاعت وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی۔ انسان بارہ تیرہ قسم کے ٹائپوں کا عادی تو ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں قسم کا نہیں اور اردو زبان کے جتنے کاتب ہیں گویا اتنے ہی ٹائپ ہیں جس کی وجہ سے طبیعتوں پر ایک غیر محسوس بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم کا ذوق کم ہو جاتا ہے۔ ان مشکلات کی وجہ سے اردو کی ترقی کے رستے میں دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ مشکلات حائل ہیں مگر میرے نزدیک وہ ایسی اوہ ایسی نہیں کہ دور دور نہ کی جاسکیں۔ اب تک نقص ہی رہا ہے کہ مرض کی تشخیص نہیں کی گئی اور اس کی وجہ سے لازماً علاج بھی صحیح نہیں ہوا۔ اگر اردو عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھی تو اس کے لئے اس قسم کی غذا کا بھی انتظام ہونا چاہئے تھا۔ اور اگر وہ شاہی گود سے محروم تھی تو کیوں نہ اسے جمہوریت کی گود میں ڈال دیا گیا جس کی حفاظت شاہی حفاظت سے کسی صورت میں کم نہیں بلکہ اصل بادشاہت تو اس کی ہے۔ اگر اس کی تربیت کے متعلق اختلاف تھا تو یہ صورت حالات پیدا کرنے کی بجائے کہ جس کا بس چلا وہ اسے اپنے گھر لے گیا وہی کیوں نہ کیا گیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا تھا جب خانہ کعبہ کی تعمیر جدید کے موقع پر حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کے سوال پر مختلف قریش خاندانوں میں جھگڑا پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے ایک چادر بچھادی اور اس پر حجر اسود اپنے ہاتھ سے رکھ کر سب قوموں کے سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کے کونے پکڑ لیں اور اس طرح سب کے سب اس کے اٹھانے میں برابر کے شریک ہو جائیں۔ اسی طرح اگر اردو، سنسکرت اور عربی کی مشترک تربیت میں دے دی جاتی تو یہ جھگڑا ختم ہو سکتا تھا۔ ٹائپ کا سوال مختلف قسم کا سوال ہے لیکن اگر مذکورہ بالا باتوں کی طرف توجہ ہوتی تو بہت سے لوگ اسے حل کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے ۔ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اس وقت حیدر آباد میں بہت سے اربابِ بصیرت اس کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں۔ میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنے