انوارالعلوم (جلد 12) — Page 21
انوا را العلوم جلد ۱۲ ۲۱ تدائے ایمان (۲) مسیحیوں کی نقل میں انہوں نے بھی خواہ مخواہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا دیا حالانکہ ان کے خدا کی بادشاہت تو جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہے۔ اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا۔ وہ اسی زمین میں اس کی حفاظت کر سکتا تھا اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتا تھا۔ غرض جس قدر بھی غور کیا جائے حضرت مسیح کو آسمان پر زندہ ماننے میں خدا تعالیٰ کی بھی اور رسول کریم کی بھی ہتک ہے اور مسیحیت نے اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور لاکھوں مسلمان اس عقیدہ کی وجہ سے ٹھو کر کھا کر مسیحی ہو گئے ہیں۔ پس اب بھی وقت ہے کہ مسلمان کچھ جانیں اور خلاف اسلام اور خلاف عقل عقیدہ کو چھوڑ کر توبہ کریں اور اپنے دوستوں کو بھی سمجھا ئیں دور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا جرم معمولی جرم نہیں۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی جانیں خدا تعالیٰ کو سپرد کرنی ہیں نہ کہ مولویوں کو۔ پس پیشتر اس کے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے چاہئے کہ سب مسلمان ایک زبان ہو کر اس گندے اور ہتک رسول کرنے والے عقیدہ کو اپنے دل سے نکال دیں تاکہ مسیحیت کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے اور مسیح کو مرنے دیں کہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی مسیحیت کی موت اور اسلام کی حیات ہے۔ کیا کوئی درد مند انسان ہے جو اپنے علاقہ میں مسیح کو مار کر اسلام کو زندہ کرے۔ یقیناً جو ایمان کی وجہ سے نہ کہ نیچریت کی وجہ سے ایسا کرے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کو پالے گا اور خدا تعالیٰ اسے اپنی مرضی کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے گا۔ وَاخِرُ دُعُوْنَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار - میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان اگر آپ اسلام کا درد اور اپنی قوم کی خیر خواہی مد نظر رکھتے ہیں تو ہر مسلمان کہلانے والے کی ہمدردی کرنا اپنا فرض سمجھیں۔ جہاں تک ہو سکے مسلمان تاجروں سے مال خریدیں اور اپنی اولادوں کے دل میں خیال پیدا کریں کہ مسلمان بہادر ہوتا ہے۔ وہ کسی قوم کے فرد یا مجموعہ سے نہیں ڈرتا۔ الاحقاف : ٣٦ L مرزا محمود احمد ال عمران: ۸۲ متی باب ۶ آیت ۱۰۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء الجاثية : ۲۸ الفتح ۱۵