انوارالعلوم (جلد 12) — Page 598
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۹۸ بعض اہم اور ضروری امور ہمارا فرض ہے کہ اس تحریک کا مقابلہ کریں اور خدا کے فضل سے عباد اللہ کی تحریک ہمارے پاس ایسے سامان ہیں کہ ہم اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے عباد اللہ کی تحریک کی ہے اور اس کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ ۱۶ سے ۳۵ سال تک کے لوگ اس میں شامل ہوں۔ اس انتظام کو اگر اچھی طرح چلایا جائے تو بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے۔ جس طرح ہماری جماعت خدا کے فضل سے منظم ہے اس طرح سکھ بھی منظم نہیں اور ہندو بھی نہیں۔ ہم ہر جگہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور امن کے قیام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ سیاسی کام ہی نہیں بلکہ ہمارا اخلاقی فرض بھی ہے کہ ایسا کریں۔ قوموں میں اخلاقی فرض تھرالی نوجوانوں کی خرابی نوجوانوں کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی ہے اور نوجوانوں میں خرابی بیکاری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب نوجوانوں کے لئے اس قسم کا شغل پیدا کر دیا جائے جیسا کہ عباد اللہ کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور ہر نوجوان کو یہ احساس کرایا جائے کہ وہ قومی سپاہی ہے اور اس کا فرض ہے کہ ملک میں جو فتنہ و فساد رونما ہو اسے دور کرے تو اس طرح نو جوانوں کو اپنی اصلاح کا موقع بھی ملتا رہے گا اور ان کی اخلاقی حالت بہتر ہو جائے گی۔ احباب کو نصیحت ہیں ہمیں احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ پورے طور پر اپنے اپنے علاقہ میں کوشش کریں کہ عباداللہ کی کمیٹیاں مقرر کی جائیں۔ ابھی تک اس قسم کی بہت تھوڑی کمیٹیاں بنی ہیں اگر انتظام مکمل ہو جائے تو اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ ملک سے کامیابی کے ساتھ بد امنی دور ہو سکے گی ، قتل و غارت کی تحریک کا مقابلہ کیا جا سکے گا اور اہل ملک کے اخلاق کو اعلیٰ درجہ کا بنایا جا سکے گا۔ اب میں سلسلہ کی تمدنی ضروریات کو لیتا ہوں۔ بظاہر تمدن ایک سلسلہ کی تمدنی ضرورت معمولی چیز نظر آتا ہے مگر درا مگر دراصل اس کی تفصیل کی حد نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک بات کو یوں کر لیا تو کیا اور ڈوں کر لیا تو کیا، معمولی بات ہے مگر ان معمولی باتوں کا مجموعہ بہت بڑی بات بن جاتی ہے۔ کسی کے متعلق کہتے ہیں۔ اسے خیال تھا کہ میں بڑا بہادر ہوں اس کے اظہار کے لئے وہ شیر کی تصویر اپنے بازو پر گدوانے لگا۔ جب گودنے والے نے سوئی ماری تو اس نے پوچھا کیا گودنے لگے ہو۔ اسے بتایا گیا شیر کا دایاں کان گودنے لگا ہوں۔ اس نے کہا اس کے بغیر شیر بن سکتا ہے یا نہیں۔ کہا گیا بن سکتا ہے۔ اس نے کہا اسے