انوارالعلوم (جلد 12) — Page 576
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۷۶ بعض اہم اور ضروری امور شمولیت کو ظلی حج کہنا کوئی ناجائز نہیں۔ اگر میں یہ کہتا کہ مکہ معظمہ کا حج موقوف ہو گیا اور اس کی بجائے قاریان آنا حج کا درجہ رکھتا ہے تب وہ اعتراض کر سکتے تھے ۔ مگر مکہ معظمہ کا حج تو قائم ہے۔ میں نے جب غیر مبائعین کے اعتراض کے متعلق غور مسئلہ حج اور حضرت مسیح موعود کیا تو معلوم ہوا کہ مجھے غلطی لگی ہے۔ جو کچھ میں نے کہا وہ غلط تھا لیکن یہ غلطی اس پلڑے کے لحاظ سے نہ تھی جس میں غیر مبائعین بیٹھے ہیں ، بلکہ دوسرے پلڑے کی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام آئینہ کمالات اسلام میں نواب محمد علی خاں صاحب کو جو ہمارے بہنوئی ہیں، قاریان آنے کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ لوگ معمولی اور نقلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی " ۔ " شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و اسلام نے یہاں آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقع مجھے بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے کیونکہ اگر وہ حج کیلئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔ پس غیر مبائعین کا اعتراض فضول ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان میں جو برکات رکھی ہیں اور خاص کر سالانہ جلسہ کی برکات ان کے لحاظ سے جلسہ میں شمولیت کو ایک قسم کا ظلی حج کہنا بالکل درست ہے۔ اب میں جلسہ پر آنے والے دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ذکر الہی اور دعاؤں کی تاکید جلسہ سالانہ کے بھی کچھ آداب ہیں۔ دوستوں کو چاہئے ان کو مد نظر رکھیں ۔ اس بارے میں پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں کا آنا سیر و تماشا کے