انوارالعلوم (جلد 12) — Page 554
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۵۴ مستورات سے خطاب کہیں کچھ کہہ دیا ہے مگر اسلام نے قرآن نے جہاں مومن مرد کا ذکر فرمایا وہیں مومنات عورتوں کا ذکر بھی فرمایا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رسول کریم میں تعلیم کی بیوی کی حیثیت سے ہی قدر نہیں بلکہ عائشہ عائشہ ہو کر مشہور ہوئیں۔ پھر عیسائیت میں عورت کا حق کوئی نہیں رکھا گیا بلکہ ماں کا بھی حق نہیں رکھا ہے کیونکہ حضرت مسیح کو جب یہ کہا گیا کہ مریم ملنے آئی ہے تو کہا مریم کون ہے ؟ جا اے عورت! میں تجھ کو نہیں جانتا۔ سو جب کہ ماں کا حق نہیں جانا تو بیوی کا حق بھلا کیا جانے گا۔ تو عیسائی جب کہ عورت میں روح ہی نہیں مانتے تو حق کیا دیں گے اور مسلمان عورتوں نے ان کی ریس کی۔ عقلمند آدمی کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی کے زیر اثر نہ ہو ۔ اسلام نے عورت کو مساوی حقوق دیتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر۔ دیکھو عورت کے نکاح پر مہر پہلے دلواتا ہے اور وہ محض اس کی ملکیت قرار دیا گیا جس پر کسی اور کا تصرف نہیں ہو سکتا۔ فرانس ایسا ملک ہے کہ وہاں کی تہذیب و تمدن سب یورپ میں آزادانہ ہے۔ چونکہ عورت کو کوئی حق نہیں دیا گیا اس لئے وہاں کی عورتوں نے اپنے حقوق لینے کیلئے جنگ شروع کی اور محض بھیڑ چال کے طور پر ہماری مسلم عورتوں نے بھی اپنے حقوق لینے کا مطالبہ کیا حالانکہ ان کو خدا نے سب حقوق دیئے تھے مگر خدا جانے وہ کیوں مانگنے لگیں۔ ہاں انہوں نے اپنے ملے ہوئے حقوق کو استعمال نہیں کیا۔ غیر مسلم عورتوں کو تو حقوق ملے ہی نہیں تھے تب ان کا مطالبہ تھا مگر مسلم عورت کو تو خود خدا نے حقوق دیئے۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کو استعمال کرنا نہیں سیکھا اور نہ ان کو استعمال کرنے آتے ہیں۔ سو تم بجائے جھگڑے اور حقوق طلبی کی جد و جہد کے اپنے حقوق کو جو اسلام نے تم کو دیتے ہیں استعمال کرنا سیکھو ۔ یونہی غلطی کھا کر شور و غل کرنا تو پھر وہی مثال ہو گی جیسا کہ ایک بادشاہ کے کسی قابل سپاہی کو تلوار چلانا عمدگی سے آتی تھی اور شہزادہ صاحب کو ریس آئی کہ بادشاہ سلامت کی اس پر اتنی مہربانی اور شفقت ہے کہ ہر روز انعامات دیتے اور قدر افزائی کرتے ہیں بادشاہ کے حضور عرض کیا کہ مجھے ایک عمدہ تلوار دی جائے۔ بادشاہ نے سپاہی کو بلایا کہ تلوار شہزادہ کو دے دو۔ بہادر سپاہی نے بہتیرا عرض کیا کہ حضور ان کو چلانی نہیں آتی کہیں ٹیڑھی اور غلط چلا کر اُلٹا نقصان کریں گے مگر شہزادہ کی ضد برابر جاری رہی۔ آخر تلوار حاصل کر لی اور غلط انداز سے چلا کر اپنا بازو کاٹ لیا اس پر بادشاہ نے ڈانٹا اور وہ مورد عتاب ہوا۔ تو ٹھیک اسی طرح مسلمان عورتوں کو حقوق کا استعمال کرنا نہیں آتا۔ دیکھو اسلام میں بچے کو ماں کا