انوارالعلوم (جلد 12) — Page 539
انوار العلوم جلد ۱۴ ۵۳۹ رسول کریم میں ہم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی شادی کے بعد پھر میاں بیوی کے تعلقات شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں بھی اسلام کا دیگر مذاہب کی تعلیم سے تصادم ہوتا ہے۔ باقی سب مذاہب اسے ناپاک قرار دیتے ہیں وہ اس کی اجازت بھی دیتے ہیں مگر اس کے باوجود اسے ادنی اور ذلیل قرار دیتے اور شادی نہ کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فطرت سے مجبور ہو کر ان تعلقات کو قائم بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ناپاک تعلقات ہیں اس لئے دل پر زنگ لگتا رہتا ہے کہ ہم یہ برا کام کر رہے ہیں۔ گاندھی جی نے لکھا ہے ۔ میں جب بھی بیوی کے پاس جاتا تو میرے دل پر ایک بوجھ ہو تاکہ میں برا کام کر رہا ہوں۔ آخر ہم نے قسم کھائی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے یہ ہندو دھرم کی تعلیم کا اثر تھا۔ ایک طرف تو فطرت میں ایسا جذبہ ہے۔ پھر اولاد کی خواہش ہوتی ہے۔ صحت کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے لیکن دوسری طرف یہ خیال ہوتا ہے کہ بُری بات ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کام کرتے بھی ہیں اور دل سیاہ ہوتا جاتا ہے کہ ہم بُرا کام کر رہے ہیں۔ اسلام نے بتایا کہ یہ خیال غلط ہے۔ اگر اس خیال کے ماتحت تعلقات قائم کرو گے تو بچہ کے دل میں بھی یہ خیال ہو گا اور گناہ کی مہر لے کر رحم مادر سے نکلے گا۔ اس کی بنیاد ہی گناہ پر ہوگی اور وہی مثال ہوگی کہ ہے۔ خشت اول چون نهد معمار کج کج تا ثریا ہے روو دیوار بچے کی پیدائش کی بنیاد ہی جب گند پر ہوگی تو اس کا دل کبھی پاک نہ ہو سکے گا۔ رسول کریم میم نے فرمایا یہ تعلقات پاکیزہ ہیں اور جو شادی نہیں کرتا وہ غلطی کرتا رہبانیت پسندیدہ چیز نہیں جس شخص نے شادی نہ کی اور وہ مر گیا۔ فَهُوَ بَطال ، اس کی عمر ضائع گئی۔ غرض آپ نے بتایا کہ یہ تعلق گندہ نہیں بلکہ انسانی صحت اور دماغی ترقی کا منبع ہے۔ میاں بیوی گویا پاکیزہ محبت کا مدرسہ اور محبت کی پہلی کڑی ہیں اور اسلام نے یہ کہہ کر کہ یہ پاکیزہ تعلقات ہیں گناہ کے احساس کو مٹا دیا۔ گناہ کے احساس کی وضاحت کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں۔ فرض کرو کہ ایک شخص کہیں سفر پر جا رہا ہے سٹیشن پر آکر گاڑی میں بیٹھ گیا بعد میں بیوی کو خیال آیا کہ میاں کو کھانے کی تکلیف ہوگی اس نے کھانا تیار کر کے کسی کے ہاتھ سٹیشن پر بھیج دیا۔ گاڑی روانہ ہو رہی تھی اور وہ بمشکل کھانے کو اس ڈبہ میں رکھ سکا جس میں