انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 536

انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۳۶ رسول کریم میں نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی میں لڑکی کی مرضی سے شادی کا دستور ہے مگر وہ مرضی بھی غیر مرضی کے برابر ہے۔ وہاں یہ طریق ہے کہ لڑکی لڑکا آپس میں ملیں ایک دوسرے سے محبت کریں اور جب پسند آ جائے تو شادی کر لیں۔ کسی اور کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔ اور جیسا کہ میں نے کہا ہے چونکہ جذبات کی دنیا سب پر غالب ہے اس طریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہنگامی جذبات کے ماتحت وہ اخلاق و شرافت و غیرہ تمام اوصاف بھول جاتے ہیں۔ صرف مال اور حُسن وغیرہ کو دیکھ کر شادی کر لیتے ہیں اور جذبات جب ابھرتے ہیں تو عقل اور ہوش و حواس کھو دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے چور ڈا پور ڈاکو اپنے آپ کو شریف اور امیر زادہ ظاہر کر کے امراء کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور پھر تباہ کر دیتے ہیں۔ سات آٹھ سال کا عرصہ ہوا اخباروں میں ایک شادی کا بہت چرچا رہا۔ جرمنی میں ایک شخص آیا اور اس نے اپنے آپ کو روس کا شہزادہ ظاہر کر کے قیصر جرمنی کی ہمشیرہ سے شادی کر لی حالانکہ وہ فی الواقع کسی باورچی خانہ میں برتن مانجھنے والا تھا جس نے کسی نہ کسی طریق سے روپیہ حاصل کر کے یہ قریب کیا جو جلد ہی ظاہر ہو گیا۔ تو محض اپنی مرضی کی شادی کا انجام بھی اچھا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس حالت میں اخلاق اور شرافت وغیرہ امور کو کوئی نہیں دیکھتا۔ مال و دولت یا حُسن پر لٹو ہو جاتے ہیں۔ اسلام نے شادی کے متعلق جو تعلیم دی اس سے پہلے شادی کی حکمت بتائی اور پھر یہ بتایا کہ شادی کیونکر کرنی چاہئے۔ میاں بیوی کی ذمہ داریاں کھول کھول کر بیان کیں نتائج بتائے اور پھر بتایا کہ شادی دونوں کی مرضی سے ہونی چاہئے مگر اس طرح کہ اس میں ماں باپ کی مرضی بھی شامل ہو۔ اکیلے ماں باپ بھی اپنی مرضی سے اپنی لڑکی کی شادی نہیں کر سکتے مگر لڑکی بھی صرف اپنی مرضی سے ان کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتی۔ اگر صرف ماں باپ کی مرضی ہو تو بعض ماں باپ ایسے بھی ہوں گے جو صرف روپیہ دیکھیں گے لیکن لڑکی تو یہ بھی دیکھے گی کہ میری ساری ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتا ہے یا نہیں۔ بعض شکلوں کو ہی بعض لڑکیاں برداشت نہیں کر سکتیں ۔ رسول کریم مسی ایم کے زمانہ میں ایک لونڈی تھی جس نے آپ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کی شکل اچھی نہیں لگتی۔ پھر ایک اور عورت کے متعلق آتا ہے کہ اس نے کہا۔ یا رسول اللہ ( مسلم ) میں اس شخص کے ساتھ جس سے میری شادی کی گئی ہے، رہنا گوارا نہیں کر سکتی۔ چنانچہ آپ نے علیحدگی کا حکم دے دیا ۔ لے تو بسا اوقات بعض آدمیوں کی شکل سے عورتوں کو طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ لڑکی ان باتوں کو دیکھ سکتی ہے اس لئے رسول کریم میں ہم نے شادی کی بنیاد اس امر پر