انوارالعلوم (جلد 12) — Page 531
انوار العلوم جلد ۱۴ ۵۳۱ رسول کریم میں ہم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی کے لئے بلا لیں لیکن ڈاکٹر کہے گا کہ اگر طبیب کو بلاتے ہو تو میں جاتا ہوں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اسے بچہ کی جان بچانے سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے اصول کی برتری منوانا چاہتا ہے۔ یہی حال اطباء کا ہے۔ حضرت خلیفہ اول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ راب تو اطباء بھی انگریزی اور یہ کا استعمال کرنے لگ گئے ہیں مگر پہلے ان کا تعصب ڈاکٹروں سے بھی بڑھا ہوا تھا)۔ ایک رئیس کا بچہ بیمار تھا اس نے آپ کو بھی بلایا ۔ آپ فرماتے میں گیا تو سول سرجن بھی وہاں موجود تھا۔ وہ تھرما میٹر لگا کر ٹمپریچر دیکھنا چاہتا تھا مگر ان کا خاندانی طبیب کہہ رہا تھا میں جاتا ہوں۔ کہا انگریزی ادویہ تمام گرم خشک ہوتی ہیں تھرما میٹر سے بچہ مر جائے گا۔ رئیس نے آپ سے حکیم صاحب کو سمجھائیں۔ آپ نے کہا۔ حکیم صاحب بے شک انگریزی ادویہ گرم خشک ہوتی ہیں مگر یہ دوائی نہیں ، یہ تو آلہ ہے لیکن حکیم صاحب کہاں مانتے تھے۔ کہنے لگے انگریزوں کی ہر چیز گرم خشک ہوتی ہے ، میں یہاں نہیں ٹھر سکتا۔ اب کوئی ماں باپ ایسا نہیں کر سکتے۔ انہیں اس سے غرض نہیں ہوگی کہ طب یونانی جیتی ہے یا انگریزی۔ ان کا مقصود تو یہ ہو گا کہ جس طرح بھی ہو بچے کی جان بچ جائے اس لئے ماں باپ کی رائے زیادہ صحیح ہوتی ہے اور الا مَا شَاءَ الله عام طور پر لوگ اس بات کو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ اچھا ڈاکٹر اور اچھا وکیل کونسا ہوتا ہے۔ تو جو شخص بنی نوع انسان کی محبت اپنے دل میں رکھے گا اس کے اصول یقیناً صحیح ہوں گے۔ قطع نظر اس سے کہ الہی کلام صحیح ہونا چاہئے اگر فلسفیانہ نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احساس دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ وسیع ہے۔ کیونکہ جتنی محبت ہو، اتنا ہی زیادہ اس چیز کا مطالعہ ہو گا اور اس لئے اس کا فائدہ بھی زیادہ ملحوظ رہے گا اور جس کے دل میں بنی نوع انسان کا عشق ہو گا اس کے اصول کی بنیاد زیادہ مستحکم ہوگی اور وہی بات ہو گی کہ :۔ ہر گز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق جس کے دل میں عشق کی کو لگی ہوگی اسے ہر دم میں خیال ہو گا کہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے اور یہی مقصد پیش نظر رہے گا کہ اپنے معشوقوں کو دکھ درد سے بچایا جائے۔ اس وقت یہ بات ہوگی کہ ثبت است بر جریده عالم دوام اور ایسا شخص جس کا دل عشق سے زندہ ہو، وہ اپنے پیچھے ایسی باتیں چھوڑے گا جو کبھی مٹ