انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 528

انوارالعلوم جلد ۱۲ ۵۲۸ رسول کریم میں ہم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی پائی ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے فلاسفر اور عاشق گزرے ہیں لیکن جو حکومت عشاق نے لوگوں کے ولوں پر کی وہ فلاسفروں کو حاصل نہ ہوئی۔ انبیاء میں حقیقی عشق کی جو مثالیں ہیں انہیں نظر انداز کردو اور مجازی عشق ہی کو لے لو۔ دنیا میں کتنے آدمی ہیں جو ارسطو یا افلاطون کی باتوں کو جانتے ہیں یا ان کا نام بھی جانتے ہیں مگر کتنے ہیں جو مجنوں اور لیلی کو جانتے ہیں اور کتنے ہیں جو ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی شہر یا قصبہ ایسا نہ ہو گا جہاں شاعر نہ ہوں اور یہ شاعر کون ہیں؟ لیلی اور مجنوں کے شاگرد اور ان میں سے ان کو الگ کر کے جن کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں علیحدہ کر دیا ہے اور جو دین کی خدمت یا اسے تازہ کرنے کے لئے شعر لکھتے ہیں باقی تمام وہی ہیں جو لیلی و مجنوں کی نقل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر چہ وہ لیلی و مجنوں نہیں ہوتے لیکن تم جس وقت ان کا کلام سنو گے تو ایسا معلوم ہو گا گویا انہوں نے کبھی کھانا ہی نہیں کھایا ، کبھی تکیہ سے سر نہیں اٹھایا کہ ساری رات ان کی آنکھیں نہ کھلی رہی ہوں اور ان کی آنکھیں کبھی خشک نہیں ہو ئیں ، جگر اور دل ان کے جسم میں ہے ہی نہیں ، مدتیں ہو ئیں کچھ خون بن کر اور کچھ پانی بن کر بہ چکا ہے اور وہ جیتا جاگتا وجود ہے جو تمہارے سامنے بیٹھا ہو گا کئی دفعہ مرا اور دفن ہو چکا اور اس کے معشوق نے آکر اس کی قبر کو ٹھکرا دیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لیلی و مجنوں کو بھی عشق میں پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے۔ تو جتنے دلوں پر عشق نے قبضہ کیا ہے عقل نے نہیں کیا۔ پس ایسا انسان جس نے عقل کے میدان میں ہی اپنی برتری ثابت نہیں کی بلکہ جذبات کے میدان میں بھی سب عاشقوں سے آگے بڑھ گیا حتی کہ کوئی بھی عاشق عشق میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس کے ذکر کے موقع پر عقل کی بات ماننے سے آج اس نے انکار کر دیا ۔ خدا تعالیٰ کے عشق کو جانے دو کیونکہ وہ عام لوگوں کی رسائی سے بالا ہوتا ہے، انسانی عشق کو لے لو۔ مجنوں کیا تھا ایک عورت کا عاشق تھا۔ اس کا عشق با غرض تھا وہ اس سے متمتع ہونا چاہتا تھا۔ اس کے حسن سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مگر اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ کا عشق جو دنیا سے تھا، وہ کسی فائدہ کی غرض سے نہ تھا، تمتع کے خیال سے نہ تھا اور پھر وہ ایک دو نہیں، دوستوں اور اور پیاروں سے نہیں ، حسینوں سے نہیں بلکہ سب سے سے زیادہ تھا۔ قرآن کریم میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ لو اے محمد ( س ( شاید تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔ ان خوبصورتوں کے لئے نہیں جنہوں نے ابوبکر اور عمر کی طرح ایمان لا کر اپنے چہروں کو منور کر لیا سے الله صلی تھا تھا۔ بلکہ بد صورتوں