انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 512

انوا را العلوم جلد ۱۴ ۵۱۲ انی سلسلہ کے ابتدائی ایام کے کارکنوں کا مقام کر کے ان کی روح خوشی اور مسرت سے بھر جائے گی اور وہ اس وقت اللہ تعالی کے حضور سجدہ کرے گی کہ اس نے مجھے بھی اپنے جسم کو اس میں استعمال کرنے کا موقع اور توفیق عطا فرمائی تھی۔ ہمارا نقطۂ نگاہ مالی نتائج پر نہیں جو کارکنوں کو خدمات کے صلہ میں ملتے ہیں بلکہ ان تغیرات پر ہے جس کا اندازہ سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔ جنت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی۔ باغات ہوں گے ۔ مگر پھر بھی رسول کریم مسلم نے فرمایا لا عَيْنَ رَاتٌ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ - که حالانکہ قرآن پاک جنت کے نقشوں سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں سلسلہ احمدیہ کی ترقیات کا نقشہ ہے اور آپ نے تفسیریں بھی کی ہیں۔ لیکن وہ ساری قبل از وقت ہیں اور الفاظ وہ حقیقی نقشہ کھینچ ہی نہیں سکتے جو آنے والا ہے۔ اگر چہ ہم یہ مانتے ہیں کہ بڑے بڑے بادشاہ یہاں آئیں گے لیکن اس کا قیاس نہیں کر سکتے کہ کس طرح ان کی گردنیں احمدیت کے ہاتھ میں دے دی جائیں گی۔ گویا جزئیات کو ہم نہیں سمجھ سکتے اور وہ جذبات ہم اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے جو اُس وقت ہوں گے۔ پس جو بھی سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتا ہے وہ دراصل ایک عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں کام کر رہا ہے اور اس کی مثال اس مونگے کی طرح ہے جو جزیرہ بنانے میں اپنی جان ضائع کر دیتا ہے۔ کورل آئی لینڈ (CORAL ISLAND) کی تیاری میں مونگا اپنی جان قربان کر دیتا ہے لیکن اسے کیا پتہ ہوتا ہے کہ اس کی قربانی کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اس کی جان ضائع ہونے سے جزیرہ تیار ہوتا ہے جس میں انسان بستے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث یا اس کے غضب کے مورد ہوتے ہیں۔ لیکن مونگے کو اس کا کوئی علم نہیں ہو تا کہ وہ ایک نئی دنیا پیدا کر رہا ہے اور اس طرح وہ خدا تعالیٰ کا بروز ہو جاتا ہے۔ انبیاء بھی خدا تعالیٰ کا بروز ہوتے ہیں۔ مگر مونگا بھی اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کا بروز ہے۔ تو جس طرح وہ مونگا جزیرہ پیدا کرتا ہے اس سے بہت زیادہ مقام ہے ان لوگوں کا جو الہی سلسلہ کے قیام کے ابتدائی ایام میں اس کے قیام میں اپنی جان کو لگاتے ہیں۔ اس کے نتائج اس وقت تو ایک کھلونا ہے اور اس وقت ان پر نظر ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی منی کا کیڑا دیکھے تو اس کو گھن آئے گی اور نفرت کرے گا۔ قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے کہ انسان کو ایک ذلیل قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے اور ابتدائی ایام کے نتائج کی بھی بعینہ میں