انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 7

انوار العلوم جلد ۱۲ ८ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت " پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ۔ پھر وہ بولا عصا اس جگہ عبرانی میں لفظ "م زہ" ہے۔ یعنی یہ کیا ہے۔ یہ الفاظ عربی کے الفاظ "ماذا " سے ملتے ہیں ”م زه " کا یہ استعمال غیر معمولی ہے۔ ورنہ اخبار باب ۲۵۔ آیت ۲۰ - شمار باب ۱۳ آیت ۱۱۹۔ سمویل باب ۳ آیت ۱۷۔ زبور باب ۳ آیت ۱۲۰ امثال باب ۳۰ آیت ۴ اور دیگر مقامات میں "کیا" کے لئے لفظ ” منہ “ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جاندار کے متعلق سوال کے موقع پر "کون" کے لئے پیدائش باب ۲۷ آیت ۱۸۔ ایضاً باب ۳۳ آیت ۵- خروج باب ۱۵ آیت ۱۱۔ اسمویل باب ۲۵ آیت ۱۰۔ زبور باب ۴ آیت ۶ وغیرہ میں عبرانی کا لفظ ”رمی" استعمال ہوا ہے۔ اس فرق کو دیکھ کر صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ کہ خروج باب ۱۶ میں جو "من" کا استعمال ہوا ہے وہ "کیا" کے معنوں میں نہیں۔ کیونکہ پرانی عبرانی زبان میں کیا کے لئے "من" نہیں بلکہ ”منہ " کا لفظ استعمال کرتے تھے ۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جلا وطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں جب "من" کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا تو اس سے بے جان نہیں بلکہ جاندار کے متعلق سوال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ عزرا باب ۵ آیت ۹۴۳ اور دانیال باب ۲ آیت ۱۵ میں " من " کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لیکن وہاں سوال جانداروں کے متعلق ہے پس معلوم ہوا کہ اول تو تو رات کے نزول کے وقت "من" کا لفظ سوال کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ دوم بنی اسرائیل کی جلاوطنی کے زمانہ سے جب یہ لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا ہے اُس وقت بھی یہ لفظ قاعدہ کے طور پر جاندار چیزوں کے متعلق سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا نہ یہ کہ بے جان چیزوں کے متعلق ۔ اور استثناء کے طور پر اگر کہیں اس کے خلاف استعمال ہوا ہے تو اسے بطور سند پیش نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا خروج باب ۱۶ آیت ۱۵ میں ”من ہے" کے معنی " کیا ہے" کے کرنا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ "من" کو " من " اس لئے کہا گیا تھا کہ بنی اسرائیل نے اسے پہچاننے کی وجہ سے "من" کے لفظ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا، درست نہیں۔ اور یہ غلط فہمی یورپی مصنفوں کو اس لئے ہوتی ہے کہ وہ عبرانی جیسی مُردہ زبان کی تحقیق کرتے وقت اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عبرانی کی ماں عربی زبان زندہ موجود ہے۔ عبرانی الفاظ کی حقیقت کے سمجھنے میں جب مشکلات ہوں تو وہ عربی زبان سے مدد لے لیا کریں۔ اس موقع پر اگر وہ عربی سے مدد لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ عربی زبان میں " ما " غیر ذی روح