انوارالعلوم (جلد 12) — Page 489
انوار العلوم جلد : ۲۸۹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور مسلمان ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا فیصلہ مخالف ہو یا موافق مرکزی حکومت کے ڈھانچہ کے تیار ہونے سے پہلے شائع کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے نمائندوں کو بھی چاہئے کہ وہ فور اسب کے سب مل کر یا ان میں سے جس قدر بھی اپنی قوم کی ترجمانی کیلئے تیار ہوں حکومت تک ہمارا یہ خیال پہنچا دیں اور اگر حکومت اس کے بعد بھی اپنا فیصلہ شائع نہ کرے تو انہیں چاہئے کہ ایسے تمام سوال جو مرکزی اختیارات کے متعلق ہوں یا جن میں مرکز اور صوبہ جاتی حکومت کے اختیارات کی حد بندی کی جانی ہو ان کے متعلق احتجاج کر کے خاموش بیٹھے رہیں اور صرف کاروائی سنتے رہیں تاکہ ان کا علم کامل رہے اور صورت حالات کی تبدیلی کی صورت میں فورا کام شروع کر سکیں۔ تمام ہندوستان میں ان قرار دادوں کے پاس ہونے کے بعد وفادار مسلمان نمائندوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے اور وہ جو اپنی قوم کی ترجمانی کرنا پسند نہیں کریں گے ان کے متعلق ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اس کانفرنس میں ذاتی اعزاز کے حصول کی نیت سے شامل ہوئے ہیں نہ کسی قومی فائدہ کو مد نظر رکھ کر۔ اگر مسلمان نمائندے سب کے سب یا ان میں سے بعض باوجود اپنی قوم کے مطالبہ کے ہلا قید شرکت کو جاری رکھیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے متعلق عدم اعتماد کے ریزولیشن پاس کر کے حکومت کو بھجوا دیں اور تمام ہندوستان میں دوبارہ جلسے کر کے اس امر کا اعلان کر دیا جائے کہ مسلمانوں کی نمائندگی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں بالکل نہیں ہے یا نا کافی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خواہ کوئی کیسی برطانیہ کیلئے مسلمانوں سے سمجھوتہ ضروری ہے یہی زبر دست نمائندہ انجمن ہو اس کے فیصلہ کی نسبت یہ تمام ہندوستان کے جلسے زیادہ با اثر اور زیادہ مفید ثابت ہوں گے ۔ اور حکومت ہند اچھی طرح معلوم کر لے گی کہ مسلمانوں کے اصل خیالات کیا ہیں اور چونکہ میں حق ہے کہ اس وقت برطانیہ کا اپنی گزشتہ شان و شوکت کو قائم رکھنا مسلمانوں سے اتحاد کے بغیر نا ممکن ہے اور موجودہ حالات میں مسلمانوں کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ انگریزوں سے جو مسلمانوں کی طرح سب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں باوقار سمجھوتہ کر لیں۔ اس لئے جب مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ حکومت تک پہنچ جائے گا تو برطانیہ ضرور اس کی طرف توجہ کرے گا اور اگر وہ ایسا کرے گا تو ہماری طرف سے اس پر حجت تمام ہو جائے گی۔