انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 470

انوار العلوم جلد ۱۲ ۴۷۰ فضائل القرآن (۴) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ ہے اس کے پیچھے چل کر تم نجات پا سکتے ہو۔ پھر اس سے بھی بڑا درجہ آپ کا یہ بیان فرمایا کہ آپ دوسروں کو پاک کرنے والے ہیں۔ فرماتا ہے۔ كَمَا اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُولاً مِّنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ 99 ہم نے تم میں سے ہی ایک رسول بھیجا ہے۔ جو ہماری آیتیں پڑھ کر تمہیں سناتا ہے اور گناہگاروں کو پاک بناتا ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر فرمایا ۔ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَ يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ تو تو کہدے کہ اے ماننے والو یا مجھ پر اعتراض کرنے والو۔ اگر تم اللہ کا محبوب بننا چاہتے ہو تو آؤ اس کا طریق میں تمہیں بتاؤں۔ جس طرح میں عمل کرتا ہوں۔ اس طرح تم بھی عمل کرو۔ پھر اللہ تعالی تم کو بھی اپنا محبوب بنا لے گا۔ پھر اس سے بھی آگے ترقی کی اور فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) تو وہ ہے ۔ کہ اس پر جو کلام نازل ہوا ہے۔ اسے بھی ہم کسی ناپاک کو چھونے نہیں دیتے۔ پھر کیا اس کلام کو لانے والا ناپاک ہو سکتا ہے۔ چنانچہ فرمایا إِنَّهَ لَقُرْآنَ كَرِيمٌ ۖ فِي كِتَبٍ مَكْنُونٍ لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ له یه قرآن بڑی عظمت والا ہے۔ یہ اس جگہ خدا نے رکھا ہے جہاں کوئی گندہ شخص اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اور اسے مطہر کے بغیر کوئی چھو ہی نہیں سکتا۔ پھر جس پر یہ کلام نازل ہوا اسے ناپاک کس طرح کہہ سکتے ہو۔ پھر فرمایا۔ ہم نے اسے وہ کتاب دی ہے جس کو آج ہی نہیں بلکہ آئندہ بھی کوئی ناپاک نہیں چھو سکے گا ۔ بِأَيْدِى سَفَرَةِ - كِرَامٍ بَرَرَةِ الله یہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہے گی جو دور دور سفر کرنے والے اور نہایت معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہونگے۔ اس وقت یہ دو ہی اعتراض بیان کئے جاسکتے ہیں اور وہ بھی بہت مختصر طور پر ۔ اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ دوستوں کو جو اس جلسہ میں شامل ہوئے ہیں اپنی نعمتوں کا وارث بنائے۔ اور وہ جنہوں نے مہمان نوازی میں حصہ لیا ہے۔ مرد اور عورتیں ، چھوٹے اور بڑے ان سب پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔ پھر ان پر اپنا فضل نازل کرے جن کے دل اس جلسہ میں شامل ہیں گو وہ خود نہیں آسکے ۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے سب لوگوں کو توفیق دے کہ جو نور اور صداقت انہیں حاصل ہوئی ہے وہ دنیا کو پہنچائیں۔ ہماری جماعت کے خطا کاروں کو نیک