انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 468

انوار العلوم جلد ۱۳ ۴۶۸ فضائل القرآن (۴) دور ہو جائے۔ (۲) سورہ مومن رکوع ۶ میں بھی پہلے اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا ۱۲ فرما کر نصرت کا ذکر کیا ہے اور پھر وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ ۹۳ میں استغفار اور تسبیح کا حکم دیا ہے سورۃ محمد رکوع ۲ میں بھی پہلے ساعت کے آنے کا ذکر ہے یعنی فتح کا۔ کا۔ اور پھر واسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ ۴ فرماتا ہے۔ (۴) سورۃ نصر میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے۔ اور پھر آتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ ۹۵ (۵) سورۃ فتح میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر غَفَر کا ۔ فرمایا ۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ - ٩٦ ان سب حوالوں میں فتح کے ساتھ ذَنْب یا اِسْتِغْفَار کا ذکر ہے۔ یعنی یا تو فتح کے وعدہ کے بعد یا فتح کے ذکر کے بعد ۔ چار جگہوں میں تو فتح کے وعدہ کے ساتھ استغفار کا ذکر کیا ہے۔ اور ایک جگہ فتح مبین کا ذکر ہے اور وہاں لِيَغْفِرَ کہا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری دعا سنی گئی اور ہم نے عام فتوحات کی بجائے تجھے فتح مبین عطا کی ہے تاکہ تیرے ذنب بخشے جائیں۔ اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کسی کو فتح و نصرت کا ملنا کیا گناہ ہے اور ہر جگہ فتح کے ساتھ یہ الفاظ کیوں آئے ہیں۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ استغفار اور ذنب کسی اور قسم کا ہے۔ اگر گناہ مراد تھا تو چاہئے تھا کہ کسی گناہ کا ذکر کیا جاتا۔ مگر ایسا تو ایک جگہ بھی نہیں کیا گیا۔ بلکہ بجائے اس کے یہ بتایا کہ ہم تجھے فتح و نصرت دیتے ہیں۔ تو استغفار کر۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس کے معنی کچھ اور ہیں۔ اور وہ یہ کہ فتح کے ساتھ جو لوگ سلسلہ بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں ان کی تربیت پوری طرح نہیں ہو سکتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے زوال کا وقت اسی دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ جب کہ فتوحات شروع ہوتی ہیں۔ اور لوگوں کی تربیت اچھی طرح نہیں ہو سکتی۔ جب لاکھوں مسلمان ہو گئے اور وہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے تھے تو ان کی تربیت ناممکن تھی۔ اس لئے فرمایا یہ بات بشریت سے بالا ہے کہ اتنے لوگوں کی پوری طرح تربیت کی جاسکے۔ ان کی تربیت خدا ہی کر سکتا ہے۔ اس لئے دعائیں کر کہ خدایا تو ہی ان کی نیک تربیت کا سامان پیدا فرما۔ اور پھر خوشخبری دی کہ ہم نے تمہاری دعائیں سن لی ہیں ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا - لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ۔ ہم تجھ کو جو فتح عظیم دیں گے وہ ایسی صورت میں دیں گے کہ وہ فتح مبین ہوگی۔ حق و باطل میں تمیز کر دینے والی ہوگی اور صرف جسموں پر ہی نہیں ہوگی۔ بلکہ دلوں پر