انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 461

انوارالعلوم جلد ۱۲ ۴۶۱ فضائل القرآن (۴) عفو کا خیال نہیں رکھا ہر حالت میں سزا دینے پر زور دیا ہے۔ مگر قرآن نے دونوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔ پھر ہر زمانہ کا خیال رکھا ہے۔ اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے۔ چنانچہ فرمایا قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا * * کہ کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس قرآن کریم سے پہلی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے ساری دنیا کو دعوت دی ہو۔ انہوں نے دوسری قوموں کیلئے رستے بند کر دیئے۔ حضرت مسیح کا انجیل میں یہ قول موجود ہے کہ:۔ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ " الحه اور یہ کہ :۔ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں۔ ۲۴ گویا مسیح نے بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو ہدایت دینے سے انکار کر دیا ۔ مگر قرآن میں سب قوموں کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان جمع کر دیئے ۔ مثلاً (1) سارے نبیوں کی تصدیق کی۔ اس سے سب کے دلوں میں بشاشت پیدا کر دی۔ لیکن اگر کوئی ہندو عیسائی ہو تو اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بدھ اور کرشن جھوٹے ہیں۔ اور اگر کوئی عیسائی ہندو ہو۔ تو اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے۔ مگر کتنی خوبی کی بات ہے کہ قرآن نے کہہ دیا ۔ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ، ہم نے اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ہماری طرف سے نذیر نہ بھیجا گیا ہو۔ اس بنا پر رسول کریم میں اللہ نے تمام اقوام سے کہہ دیا کہ مجھے قبول کر کے تمہیں اپنے بزرگوں کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔ وہ بھی سچے تھے۔ ہاں ان میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ ان کی تعلیم اس زمانہ کے لئے مکمل تھی جس میں وہ آئے۔ لیکن میں جو تعلیم لایا ہوں یہ ہر زمانہ کے لئے مکمل ہے۔ دوسری دلیل رسول کریم ملی یم کے مفتری نہ ہونے کی مفتری ہمیشہ ناکام ہوتا ہے قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے کہ مفتریوں کا ذکر کرنے کے بعد