انوارالعلوم (جلد 12) — Page 3
انوار العلوم جلد ۱۳ اسم بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت ادبی دنیا کے جنوری نمبر میں مولوی نعیم الرحمن صاحب ایم۔ اے پروفیسر الہ آباد یونیورسٹی کا ایک مضمون من کی ماہیت کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اس امر پر بحث کی ہے کہ بنی اسرائیل پر جو من نازل ہوا تھا۔ اس کی حقیقت کیا تھی۔ انہوں نے اول تو تو رات کے بعض حوالے نقل کر کے بتایا ہے کہ تو رات کی رو سے من اور اس کے نزول کی حقیقت کیا تھی۔ پھر طبی طور پر من کی جو ماہیت بتائی جاتی ہے، وہ بیان کر کے بتایا ہے کہ تو رات میں من کی بیان کردہ حقیقت طبی تفصیلات کے مطابق نہیں۔ مجھے یہ مضمون پڑھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں بھی علمی تحقیق کا ذوق پیدا ہو رہا ہے اور وہ اس حالت جمود سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے " رہے ہیں جو یہ کیا ہے " کہنے سے باز رکھ رہی تھی اور اسی خوشی میں اس مضمون کے متعلق میں بھی بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر کنعان کی طرف آئے تو جس علاقہ میں سے انہیں گزرنا پڑا وہ بہت غیر آباد تھا اور دور در از فاصلہ پر بعض شہر آباد تھے ۔ اب تھے۔ اب تک یہ علاقہ ایسا ہی ہے اور اب بھی اس علاقہ سے گزرنا آسان نہیں۔ فلسطین پر انگریزی قبضہ کی وجہ وجہ سے اب اس علاقہ میں ریل جاری ہو گئی ہے اور سفر میں سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں لیکن اس غیر آبادی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کیونکہ یہ علاقہ آبادی کے قابل زمینوں سے خالی ہے اور بے آب و گیاہ میدانوں پر مشتمل ہے۔ ترکوں نے جنگ عظیم میں بہت کوشش کی کہ کسی طرح مصر میں داخل ہو کر انگلستان اور ہندوستان کے تعلقات قطع کر دیں لیکن پانی کی دقت اور سامان خورونوش کی کمی کے سبب عقلوں کو حیرت میں ڈال دینے والی قربانی کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انگریزوں نے بھی شروع میں بہت زور مارا لیکن خشک اور چٹیل میدانوں کی وجہ سے وہ بھی سویز کے راستہ سے فلسطین میں داخل نہ ہو سکے ۔ آخر جنرل ایلنبی نے نیل سے پانی لے کر ۔