انوارالعلوم (جلد 12) — Page 449
انوار العلوم جلد ۱۳ ۴۴۹ فضائل القرآن (۴) نہیں جس میں تو رات یا انجیل لکھی ہوئی ہیں بلکہ عربی میں ہے۔ پس جب نہ وہ شخص اپنا مطلب عربی میں ادا کر سکتا ہے نہ قرآن کسی دوسری زبان کی نقل ہے تو اس کی طرف یہ کتاب کس طرح منسوب کی جاسکتی ہے۔ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقت تک تورات اور انجیل کا کوئی ترجمہ عربی زبان میں نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کو عبرانی اس لئے پڑھوائی گئی کہ وہ تورات و انجیل پڑھ سکیں۔ دوسرا ثبوت اس کا یہ ہے کہ مفسرین دنیا بھر کے علوم کا ذکر تفسیروں میں کرتے ہیں۔ مگر جب بائیبل کا حوالہ دیتے ہیں تو بالعموم غلط دیتے ہیں۔ جس کی وجہ یہی تھی کہ عربی میں بائیبل نہ تھی۔ وہ سن سنا کر لکھتے اس لئے غلط ہو ط ہوتا۔ تیسرا ثبوت یہ ہے کہ بخاری میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھا ہے کہ کان يَكْتُبُ الْكِتٰبَ بِالْعِبْرَانِي ۲۲ وہ عبرانی میں تو رات لکھا کرتے تھے ۔ گویا اس وقت تو ریت اور انجیل عربی میں نہ تھی۔ پس یقینا وہ غلام عبرانی یا یونانی میں انجیل پڑھتا تھا۔ اور عربی میں اس کا مفہوم بیان نہ کر سکتا تھا۔ اس طرح اس اعتراض کو رد کر دیا گیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ جبیر نے کہا تھا کہ بَلْ هُوَ يُعَلِّمُنِي- جبير آخر کار مسلمان ہو گیا تھا۔ عبد اللہ بن ابی سرح نے مرتد ہونے پر اس کا راز کفار کو بتا دیا تھا۔ اور وہ اسے سخت تکالیف دیتے تھے ۔ آخر فتح مکہ پر آنحضرت میں ہم نے روپیہ دے کر اسے آزاد کروا دیا۔ اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے کہا۔ میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتے تھے ۔ آٹھواں اعتراض یہ تھا کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے۔ اور اس آٹھواں اعتراض کی طرف سے اسے کلام حاصل ہوتا ہے۔ اور گو کفار کا کوئی قول اس اعتراض کے متعلق نقل نہیں کیا گیا۔ مگر اس اعتراض کے اشارے ضرور پائے جاتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطِينُ ٢٣ شیطان اس کلام کو لیکر نہیں اُترے ۔ اسی طرح فرماتا ہے ۔ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَّحِيمٍ ۲۴ یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر یہ ؟ تھا کہ اس پر شیطان اُترتا ہے۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے۔ اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار جمع ہو کر رسول کریم ملی ایم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے پاس ادنی درجہ کے لوگ آتے ہیں اور بڑے لوگ آپ کی