انوارالعلوم (جلد 12) — Page 447
ا تو ا را العلوم جلد ۱۲ ۴۴۷ فضائل القرآن (۴) と بہن تھی۔ اس سے انہیں سخت شرمندگی محسوس ہوئی۔ اور انہوں نے کہا کہ تم جو کچھ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دکھاؤ ۔ اس نے کہا۔ تم مشرک اور ناپاک ہو۔ پہلے جا کر نہاؤ۔ پھر بتائیں گے۔ چنانچہ وہ نہائے اور رہا سہا غصہ بھی دور ہو گیا۔ اس کے بعد قرآن کی جو آیات پڑھ رہے تھے وہ انہیں سنائی گئیں۔ حضرت عمرؓ کا دل ان کو سن کر پگھل گیا۔ اور وہ بے اختیار کہہ اٹھے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ۔ اس وقت وہ صحابی جن کو انہوں نے چھپایا ہوا تھا۔ وہ بھی باہر آگئے حضرت عمرؓ نے کہا۔ بتاؤ تمہارا سردار کہاں ہے۔ میں اسکے پاس جانا چاہتا ہوں۔ انہیں بتایا گیا۔ کہ فلاں گھر میں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ حضرت عمرؓ وہاں گئے۔ وہاں رسول کریم ملی ایم اور بعض صحابہ موجود تھے اور دروازہ بند تھا۔ جب حضرت عمرؓ نے دستک دی۔ تو صحابہ نے پوچھا کون ہے ؟ حضرت عمرؓ نے اپنا نام بتایا تو صحابہ نے ڈرتے ہوئے رسول کریم میں اللہ سے عرض کیا۔ عمر آیا ہے۔ دروازہ کے سوراخ سے انہوں نے دیکھا کہ تلوار ان کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ۔ دروازہ کھول دو۔ جب عمر اندر داخل ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا کرتہ پکڑ کر کہا۔ عمرہ کی نیت سے آئے ہو۔ انہوں نے کہا۔ اسلام قبول کرنے کیلئے۔ آپ نے فرمایا اللهُ أَكْبَرُ - ** ٢٠ یہ سن کر باقی صحابہ نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس واقع سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم مسلم کی عادت تھی کہ صحابہ کو دین سکھانے کے لئے الگ مکان میں بلا لیتے۔ چونکہ آپ دروازہ بند کر کے بیٹھتے تھے تاکہ کفار شرارت نہ کریں۔ اس لئے کفار کے نزدیک اس قسم کا اجتماع بالکل عجیب بات تھی۔ وہ خیال کرتے تھے کہ وہاں قرآن بنایا جاتا ہے۔ اور چونکہ انبیاء سابق کے بعض واقعات کی طرف قرآن کریم میں اشارہ تھا وہ یہ خیال کرتے کہ مسیحی اور یہودی غلام یہ باتیں ان لوگوں کو بتاتے ہیں۔ اور دوسرے صحابہ سے رسول کریم میں کالم لکھوا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِنَّكُ افْتَرَهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ أخَرُونَ فَقَدْ جَاءُ وَ ظُلْمًا وَ زُورًا - یعنی منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بنا لیا گیا ہے۔ اور کچھ لوگ اس میں مدد دیتے ہیں۔ مگر ان کا یہ اعتراض بالبداہت ظلم اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ کیونکہ کیا مسیحی غلام ایسا کر سکتے ہیں کہ خود اپنے دین پر ہنسی کرائیں۔ آخر انہیں اس کی کیا ضرورت ہے اور کیا فائدہ ہے کہ وہ اس بات پر رات دن ماریں کھائیں اور گرم ریت پر گھسیٹے