انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 441

انوار العلوم جلد ۱۳ الام فضائل القرآن (۴) اور یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ وہ عیسائی اور یہودی ہی تھے جو باتیں بنا کر ان کو دیتے تھے۔ چونکہ اب بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لئے میں کسی قدر تفصیل سے اس کا جواب بیان کرتا ہوں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اسے بشر سکھاتا ہے۔ اس بشر سے مراد جبر ۳۶ رومی غلام تھا۔ جو عامر بن حضرمی کا غلام تھا۔ اس نے تو رات اور انجیل پڑھی ہوئی تھی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگ تکلیف دینے لگے تو آپ اس کے پاس جاکر بیٹھا کرتے تھے۔ اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔ دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ فرا اور زجاج کہتے ہیں کہ حو بطب ابن عبد العربی کا ایک غلام عائش یا بعیش نامی پہلی کتب پڑھا کرتا تھا۔ بعد میں پختہ مسلمان ہو گیا۔ اور رسول کریم میں اللہ کی مجلس میں آتا تھا۔ اس کی نسبت لوگ یہ الزام لگاتے تھے۔ مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ ابو فکیہ پر لوگ شبہ کرتے تھے ان کا نام بیسار تھا۔ مذہبا یہودی تھے اور مکہ کی ایک عورت کے غلام تھے۔ بیہقی اور آدم بن ابی ایاس نے عبد اللہ بن مسلم الحضرمی سے روایت لکھی ہے کہ ہمارے دو غلام بسیار اور جبر نامی تھے دونوں نصرانی تھے اور عین التجر کے رہنے والے تھے۔ دونوں لوہار تھے۔ اور تلواریں بنایا کرتے تھے اور کام کرتے ہوئے انجیل پڑھا کرتے تھے۔ رسول کریم میں ہم وہاں سے گزرتے تو ان کے پاس ٹھہر جاتے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک غلام سے لوگوں نے پوچھا۔ کہ إِنَّكَ تُعَلِّمُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لاَ هُوَ يُعَلِّمُنِي - کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو سکھاتے ہو ؟ اس نے کہا۔ میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتا ہے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک انجمی رومی غلام مکہ میں تھا۔ اس کا نام بلعام تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسلام سکھایا کرتے تھے اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سکھاتا ہے ۔ ۳۷ مسیحی مؤرخ لکھتے ہیں کہ غالبا آپ نے بحیرہ راھب سے راھب سے سیکھا تھا۔ چونکہ مسیحی تاریخوں میں بحیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا۔ اس وجہ سے ابتداء تو وہ اس کے وجود سے ہی منکر تھے لیکن اب مسعودی کی ایک روایت کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔ اور اس اعتراض کے رنگ میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔ وہ روایت یہ ہے کہ بحیرہ کو مسیحی لوگ سرگیس (SERGIUS) کہا کرتے تھے اور SERGIUS نامی ایک پادری کا پتہ مسیحی کتب میں مل جاتا ہے۔ پس اب وہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے سیکھ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نَعُوذُ