انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 432

انوارالعلوم جلد ۱۲ ۴۳۲ فضائل القرآن (۴) یہ پاگل کہنے والوں کے متعلق تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کے برا بھلا کہنے پر چپ رہو ۔ کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوتا ہے جو صرف آپ ہی پاگل کہنے والوں کے مقابلہ میں اپنے جوش کو نہ دبائے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی یہ ہدایت کر جائے کہ مخالفوں کو برابھلا نہ کہنا۔ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ پس عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ بِاتِكُمُ الْمَفْتُونُ تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے۔ اس دلیل میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پاگل کو کبھی خدائی مدد نہیں ملتی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خد خدا تعالیٰ کی مدد سے کامیاب : اب ہو رہے ہیں پھر ان ہیں پھر ان کو پاگل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسرا اعتراض رسول کریم صلی اللہ پر اس حالت میں کیا گیا جب مخالفین دوسرا اعتراض نے دیکھا کہ پاگل کہنے پر عقلمند لوگ خود ہمیں پاگل کہیں گے ۔ جب وہ یہ جنون اور او دیکھیں گے کہ جسے پاگل کہتے ہیں اس نے تو نہ کسی کو مارا ہے نہ بیٹا۔ بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں۔ پس انہوں نے سوچا کہ کوئی اور بات بناؤ۔ اس پر انہوں نے کہا۔ اسے پریشان خوا میں آتی ہیں اور ان کی وجہ سے دعوی کر بیٹھا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ 19 کہتے ہیں اس کا کلام أَضْغَاثُ أَحْلامٍ ہے کچھ مشتبہ ہی خواہیں ہیں جو اسے آتی ہیں۔ یعنی آدمی تو اچھا ہے۔ اس کی بعض باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بعض بُری باتیں بھی اسے دکھائی دیتی ہیں۔ أَضْغَاثُ احلام میں یہ فرق ہے کہ جنون میں بیداری میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن أَضْغَاتُ میں نیند میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ چونکہ مخالفین دیکھتے تھے کہ رسول کریم ملی ایم کے معاملات میں کوئی نقص نہیں اس لئے کہتے کہ جنون سے مراد ظاہری جنون نہیں بلکہ خواب میں اسے ایسی باتیں نظر آتی ہیں۔ اس کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ لَقَدْ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتْباً فِيْهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ٢٠ جن لوگوں کو أَضْغَاثُ أَحْلامِ ہوتی ہیں کیا ان کی خوابوں میں قومی ترقی کا بھی سامان ہوتا ہے ؟ پراگندہ خواب تو پراگندہ نتائج ہی پیدا کر سکتی ہے۔ مگر اس پر تو وہ کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہارے لئے عزت اور شرف کا موجب ہے۔ کیا دماغ کی خرابی سے ایسی ہی تعلیم حاصل ہوتی ہے ؟ تم اپنے آپ کو عقلمند کہتے ہو۔ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟