انوارالعلوم (جلد 12) — Page 430
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۴) اس کے بعد میں ان بعض اعتراضات کو لیتا ہوں مخالفین اسلام کے اعتراضات کارد جو رسول کریم ملی ایم کی ذات پر کئے گئے ہیں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح قرآن کریم نے ان کو رد کر کے آپ کے بے عیب اور کامل ہونے کو ثابت کیا ہے۔ کیونکہ قرآن نے رسول کریم میں اللہ کی پاکیزگی ثابت کرنے کا فرض خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ کسی بندہ پر نہیں چھوڑا۔ پہلا اعتراض جو رسول کریم ملی کی زندگی پر ہو سکتا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے دعوی کے موجبات و محرکات کیا تھے ؟ یا یہ کہ قرآن پیش کرنے کا اصل باعث کیا تھا؟ کوئی کہتا آپ نَعُوذُ بِاللہ پاگل ہیں ۔ کوئی کہتا اسے جھوٹی خوابیں آتی ہیں۔ کوئی کہتا ساحر ہیں۔ کوئی کہتا جھوٹ بولتے ہیں۔ کوئی کہتا کاہن ہیں۔ غرض مختلف قسم کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے۔ یہی خیالات آج تک چلتے چلے آتے ہیں۔ جب بھی کوئی مصنف رسول کریم اس کے خلاف لکھتا ہے تو یہی کہتا ہے آپ جھوٹے تھے اور کوئی کہتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ آپ مجنون تھے ۔ میں سب سے پہلے جنون کے اعتراض کو لیتا ہوں۔ چونکہ رسول کریم پہلا اعتراض صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ منکر اس کے متعلق کوئی حرف گیری نہیں کر سکتے تھے اس لئے جب آپ کا کلام سنتے تو یہ نہ کہہ سکتے کہ آ، نہ کہہ سکتے کہ آپ جھوٹے ہیں بلکہ یہ کہتے کہ پاگل ہے۔ چونکہ مشرکانہ خیالات ان لوگوں کے دلوں میں گڑے ہوئے تھے ادھر وہ سمجھتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان دونوں باتوں کے تصادم سے یہ خیال پیدا ہو جاتا کہ اس کی عقل ماری گئی ہے۔ قرآن کریم میں میں اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ وَقَالُوا يَأَيُّهَا الَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونَ عَلى جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پیش کیا تو لوگوں نے حیران ہو کر کہ اب کس طرح انکار کریں یہ کہہ دیا کہ اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھ پر خدا کا کلام اُترا ہے تیرا دماغ پھر گیا ہے اور تو پاگل ہو گیا ہے اس کا جواب قرآن کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ۔ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِاتِّكُمُ الْمَفْتُونُ - ۱۸ لوگ تجھے پاگل کہتے ہیں مگر ہم دوات اور قلم کو تیری سچائی کے لئے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پاگل آخر کسے کہتے ہیں۔ اسے جس کی عقل عام انسانوں کی عقل کی سطح سے نیچے ہوتی ہے۔ ورنہ پاگلوں میں بھی