انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 428

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۲۸ فضائل القرآن (۴) ہے۔ وہ نیک کام کرتے وقت یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان سے سلوک کرتا ہے۔ اس میں بتایا کہ (1) رسول بناتے وقت اللہ تعالی اس آدمی کو دیکھتا ہے کہ وہ کیسا ہے۔ پس مجرموں کو رسالت نہیں مل سکتی۔ انہیں تو ذلت ملے گی۔ رسالت تو بڑی بھاری عزت ہے۔ (۲) جو رسول بنتا ہے وہ پہلے بھی اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے۔ الہی احکام کی فرمانبرداری اس کی طبیعت میں داخل ہوتی ہے۔ اور نیک تحریکوں کو قبول کرنے میں وہ پیش پیش ہوتا ہے ۔ یہ گویا قرآن نے گر بتایا کہ انبیاء کی پہلی زندگی اعلیٰ ہونی چاہئے۔ بیشک ایک ایسا شخص ولی ہو سکتا ہے۔ جو ایک زمانہ تک عیوب میں مبتلا رہا ہو۔ اور بعد میں اس نے توبہ کرلی ہو ۔ لیکن نبوت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہی ۔ ہی خاص طور پر اعلیٰ درجہ کی طہارت اسے حاصل ہو۔ (۲) اور نبوت کی زندگی کے متعلق فرمایا فَالَّذِینَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْتَمُونَ ١٣، جن لوگوں کو خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ وہ رات دن اپنے اعمال سے دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا پاک ہے۔ یعنی انہیں جس قدر قرب عطا ہو ۔ اس قدر وہ فرمانبردار ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اپنے ہر عمل سے ظاہر کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا نے نے یونہی انہیں نہیں چنا۔ گویا وہ اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کی پاکیزگی ظاہر کرتے ہیں۔ اور اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ خدا نے غلط انتخاب نہیں کیا۔ یہ ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی پاکیزہ زندگی اب سوالی رسول کریم میں علم کی ذات کے متعلق بھی اس عام قاعدہ کے پورا ہونے کا کہیں ذکر ہے ؟ سو اس امر کے متعلق کہ رسول کریم ملی ایم کی دعوئی سے پہلی زندگی بالکل پاک اور بے عیب تھی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قُلْ لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ لاء فرمایا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ کتاب پڑھ کر تمہیں نہ سناتا۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو بھیجتا اور نہ تمہیں اس تعلیم سے آگاہ کرتا۔ تمہیں علم ہے کہ میری زندگی کیسی پاکیزہ گذری ہے۔ معمولی عمر نہیں بلکہ چالیس سال کا لمبا عرصہ ۔ تم اسے جانتے ہو اور اس پر کوئی عیب نہیں لگا سکتے۔ پھر کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ اب میں نے جھوٹ بنا لیا۔ یہ پہلی کتاب ہی نہ :