انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 364

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۶۴ نبی کریم میم کے پانچ عظیم الشان اوصاف م آپ کی اولاد میں سے صرف وہی زندہ رہیں۔ پھر اس کے علاوہ آ۔ آپ ایسی نیک خو تھیں کہ جس کی مثال چراغ لے کر ڈھونڈیں تو نہ مل سکے گی۔ وہ نہایت افسردگی کی حالت میں آپ کے پاس آتی اور اپنے ہاتھوں میں چھالے جو چکی پیسنے کی وجہ سے پڑ گئے تھے ، دکھاتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ اب اس قدر مال و دولت آ رہی ہے۔ ایک غلام یا لونڈی مجھے بھی دی جائے جو مجھے مدد دیا کرے۔ آپ جواب میں فرماتے ہیں کہ فاطمہ آؤ اس سے بہتر چیز تمہیں دوں اور چند کلمات سکھا دیتے ہیں۔ 17 میں پوچھتا ہوں دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو ایسے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ نرینہ اولاد تو آپ کی فوت ہو چکی تھی اور اس لحاظ سے گویا آپ ۔ آپ بے اولاد تھے۔ صرف ایک فاطمہ باقی تھی وہ ایسی تکلیف کا اظہار کرتی اور آپ یہ جواب دیتے ہیں۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ آپ ہر حالت میں بے نظیر انسان تھے۔ دشمنوں کے ظلم سہنے میں بھی آپ نے کمال دکھایا ۔ لوگ پتھر مار مار کر خون آلود کر دیتے ہیں، آپ پر لا کر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دیتے ہیں ، جب آپ طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو مکہ والوں نے انہیں پہلے ہی کہلا بھیجا کہ ایک دیوانہ آتا ہے ان ظالموں نے آپ کے پیچھے چھوٹے چھوٹے لڑکے اور کتے ڈال دیئے۔ لڑکے پتھر مارتے مارتے تھے پھر آپ جانتے ہیں، شکاری کتے کتنے سخت ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ سر سے پاؤں تک زخمی ہو گئے ۔ واپس آتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اگر چاہو تو فورا ان لوگوں کو سزادی جائے ۔ مگر آپ فرماتے ہیں نہیں یہ لوگ نادانی سے ایسا کرتے ہیں۔ حملہ جب کبھی ضرورت پیش آتی پ فوراً ان دشمنوں کی امداد کرتے۔ کوئی نہیں جو آ۔ آپ کے پاس اپنی حاجت لے کر آیا اور آپ نے انکار کر دیا ہو۔ دشمن آتے اور آپ ان آپ ان کی ہر طرح خاطر داری کرتے۔ وہ شہر جہاں سے رات کے وقت چھپ کر آر وقت چھپ کر آپ کو بھاگنا پڑا بھاگنا پڑا جہاں کے لوگوں نے آ۔ لوگوں نے آپ کے پیارے صحابہ کو اونٹوں سے باندھ باندھ کر چیر ڈالا وہ لوگ جنہوں نے عور عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے ، کر انہیں شہید کر ڈالا، جلتی ریت پر ڈال ڈال کر ہلاک کیا جب مغلوب ہونے کے بعد آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے فرمایا :۔ آ آپ ایک شدید لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۔ ے بار بار رید دشمن نے : نے جبکہ آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اور آپ سو رہے تھے تلوار ہاتھ میں لیکر آپ کو جگایا اور کہا اب تجھے کون بچا سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ ۔ اس