انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 362

انوار العلوم جلد ۱۳ کثرت سے مال و دولت آرہی تھی ۔ لاہ ۳۶۲۔ نبی کریم میم کے پانچ عظیم الشان اوصاف حیرت ہے کہ اسی زمانہ زندگی کے متعلق بعض عیسائی مصنفین لکھتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت آئی تو آپ بگر آپ بگڑ گئے حالانکہ آ۔ آپ کی حالت یہ تھی کہ جب وفات : وفات پائی تو زرہ چند صاع جو کے عوض رہن تھی۔ غرضیکہ آپ پر غربت اور دولتمندی دونوں زمانے آئے مگر آپ نے ہر حالت میں اچھا نمونہ دکھایا ۔ آپ کو روپیہ ملا کو روپیہ ملا مگر پھر بھی آپ نے غربت کو قائم رکھا۔ آپ مجرد رہے اور ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دنیا حیران ہے۔ آپ نے ۲۵ برس ۔ آپ نے ۲۵ برس کی عمر میں شادی کی جو ں جو عرب میں بڑی عمر ہے۔ کیونکہ وہاں ۱۶-۷ ابرس کا آدمی پورا بالغ ہو جاتا ہے اور اس عمر میں بھی جب آپ نے شادی کی تو چالیس سال کی ایک بیوہ کے ساتھ ۔ گویا اس زمانہ میں جو اُمنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ ہوتا ہے آپ نے ایسی عورت سے شادی کی جو اپنا زمانہ گزار چکی تھی۔ پھر شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی مگر آپ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ اس کے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔ گویا جب آپ نے شادی نہ کی تھی اس وقت بھی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جب کی تو بھی ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی شادی پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ۹ سال کی عمر میں شادی کی جو ظلم ہے اول تو یہ بھی غلط ہے۔ عمر کے بارہ میں مختلف روان ایتیں ہیں اور متحقق ہی ہے کہ اُس وقت آپ کی عمر تیرہ سال کی تھی۔ اگرچہ بعض روایتوں میں سترہ سال بھی ہے لیکن تیرہ سال ہی صحیح ہے اور یہ بھی چھوٹی عمر ہی ہے اور ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف خود انہیں ہی ہو سکتی تھی ، عیسائی مصنفین کو تکلیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ تیرہ سال کی عمر میں آپ کی شادی ہوئی اور ۹ سال بعد آنحضرت ملی کا انتقال ہو گیا۔ گویا بائیس برس کی عمر میں ہی آپ بیوہ ہو گئیں۔ اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی عمر اس شادی کی وجہ سے برباد ہو گئی۔ مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل کی گہرائیوں کو ہم ٹولتے ہیں تو اس میں آنحضرت میں اسلام کی محبت کا بہت گہرا نقش پاتے ہیں۔ سالہا سال گزر جاتے ہیں اور آپ کے پاس کثرت سے روپیہ آنے لگتا ہے اور ثابت ہے کہ ایک ایک دن میں لاکھ لاکھ روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ کی سادگی میں فرق نہیں آیا اور آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا ۔ ایک دن صبح ۔ دن صبح سے شام تک آپ نے قریباً ایک لاکھ روپیہ تقسیم کر دیا۔ اس پر