انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 352

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۵۲ نبی کریم کے بانی عظیم الشان ارصاف تجویز ہو سکتی ہے کہ یہ تعلقات بہتر ہو بہتر ہو جائیں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے مجھے بہترین ذریعہ یہی نظر آیا کہ ایسی تحریک کی جائے کہ اپنے پیشوا ہادی، راہنما اور در حقیقت ہمارے دین و دنیا کے درست کرنے والے کے متعلق غیر اقوام سے درخواست کی جائے کہ آپ کے بعض احباب کو ہمارے آقا کے اندر عیب ہی عیب نظر آتے ہیں ، کیا کوئی ایسا بھی ہے جو خوبیوں کو دیکھ سکے اور اگر کوئی ایسا ہے تو وہ سٹیج پر آکر ان خوبیوں کو بیان کرے تا مسلمانوں کو یقین ہو کہ اگر بعض لوگ حضور" کے عیوب بیان کرنا اپنا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں تو چند ایسے بھی ہیں جو آ۔ آپ کے اعلیٰ اوصاف اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں جو جوش اور ناراضگی اس وجہ سے ہے کہ دوسری اقوام ہمارے آقا کی تو ہین کرتی ہیں، وہ کم ہو جائے اور بین الاقوامی تعلقات بہتر ہو سکیں۔ یہ پہلا قدم ہے اور دوسری اقوام کا بھی حق ہے کہ ہم سے مطالبہ کریں کہ ہمارے پیشواؤں کی خوبیاں آکر بیان کرو اور میں سمجھتا ہوں جلد ہی وہ دن آنے والا ہے کہ ایک ہی سٹیج پر مختلف اقوام کے لوگ ایک دوسرے کے ہاریوں کی خوبیاں بیان کریں گے۔ اگر ہندو اور سکھ حضرت نبی کریم ملی ایم کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کریں گے تو مسلمان ان کے پیشواؤں کے متعلق بھی ایسا ہی کریں گے اور مسلمانوں کیلئے یہ امر کوئی مشکل نہیں کیونکہ ان کو تعلیم دی گئی ہے کہ آنحضرت میام سے پہلے جو ہادی گزرے ہیں وہ بہت اعلیٰ صفات اپنے اندر رکھتے تھے اور کوئی ملک ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے خالی چھوڑا ہو بلکہ ہر ملک میں نبی مبعوث کئے ہیں۔ اور جب ایسے جلسے کثرت سے کئے جائیں گے تو ملک کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی اور ایک دن ایسا آئے گا کہ آج جیسی جھوٹ کی فضاء کی بجائے ہم صداقت کی فضاء میں پرورش پا رہے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کوئی شخص ایسا نہیں جسے دوسروں کے بزرگوں میں کوئی خوبی نظر نہ آتی ہو اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو وہ یقیناً جھوٹ کی فضا میں پرورش پا رہا ہے۔ میں تو جس مذہب کی مذہبی کتاب کو بھی دیکھتا ہوں ، اس میں خوبیاں پاتا ہوں اور میرا مذہب مجھے یہی بتاتا ہے کہ جب کوئی چیز کلیہ بری ہو جائے تو وہ دنیا میں ہرگز نہیں رہ سکتی اللہ تعالی اسے مٹا دیتا ہے۔ قرآن کریم تو شراب کے متعلق بھی یہی کہتا ہے کہ اس میں بھی بعض خوبیاں ہیں ، ہاں اس کی برائیاں ان سے زیادہ ہیں۔ جو مذہب شراب کے متعلق بھی یہ رائے رکھتا ہو ، کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ان مذاہب کے متعلق جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں انسانیت کو اس کی حدود کے اندر رکھا اور شروفساد کو دور کیا یہ کہے کہ ان کے اندر