انوارالعلوم (جلد 12) — Page 347
اتوا را معلوم جلد ۱۲ ۳۴۷ حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول میں ایم کوئی غلامی رائج نہیں ۔ ہاں فلسفیانہ اصول پر جو غلامی کی تشریح کی جاتی ہے اور جس کے ماتحت غلامی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بُری بھی اور ضروری بھی ہو سکتی ہے اور غیر ضروری بھی اس غلامی کی بعض قسمیں اسلام نے جائز رکھی ہیں۔ یعنی وہ جو اچھی ہیں اور ضروری ہیں اور جن کا ترک کرنا کوئی عقلمند انسان پسند نہیں کر سکتا اور جن کے ترک کرنے سے دنیا میں فساد اور فتنہ پیدا ا ہوتا ہے اور حقیقی آزادی مٹتی ہے اور دنیا کی ترقی میں روک پیدا ہوتی ہے اور جو غلامی کے بڑے طریق ہیں ان سے اسلام نے روکا ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح صرف رو کا ہی نہیں بلکہ غلامی کے ان طریقوں کے موجبات اور محرکات کا بھی علاج کیا ہے تاکہ انسان مجبور ہو کر ان غلامیوں میں مبتلا نہ ہو ۔ پس مبارک ہے محمد رسول اللہ مسلم کا وجود جنہوں حقیقی آزادی دینے والا انسان کا نے اس غلامی کو جو دنیا کے لئے مضر تھی ، مٹایا اور دنیا کو حقیقی آزادی عطا کی۔ وہ نادان جو لفظا غلامی کو مٹاتے ہیں اور عملاً اسے قائم کرتے ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چاند پر تھوکتا۔ تا ہے۔ لیکن چاند پر تھو کا خودا و کا خود ان کے اپنے منہ پر پڑتا ہے۔ عقلمند آدمی محسوس کرتے ہیں۔ گل سب دنیا معلوم کرلے گی کہ حقیقی آزادی اس تعلیم میں ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور دنیا کو نجات دینے والی ہستی صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے ۔ وَآخِرُ دَعُوْنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفضل ۸۔ نومبر ۱۹۳۱ء) م الحجرات: 10 ۱۰ الكفرون: 2 محمد: ۵ له النور : ۳۴ البقرة: ۲۵۷