انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 345

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۴۵ حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول میر ان قوانین سے یہ بات آزادی سلب کرنے کی اجازت کسی صورت میں دی ثابت ہے کہ اول اسلام نے انسانی آزادی سلب کرنے کی اسی وقت اجازت دی ہے جبکہ اس میں اپنی خیرو شر سمجھنے کی طاقت باقی نہ رہی ہو گویا کہ اس کی مثال ایک بچہ کی سی ہے کیونکہ جو شخص تلوار کے ذریعہ سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانا چاہتا ہے وہ انسان کی ذہنی ترقی کو جو اس کی پیدائش کا اصل مقصود ہے، روکتا ہے۔ اور بنی نوع انسان کو اس عظیم الشان مقصد سے محروم کرنا چاہتا ہے جس مقصد کے حصول کے لئے کروڑوں جانوں کو ضائع کر دینا بھی وہ معمولی قربانی سمجھے ہیں۔ پس اس قسم کی نادانی کرنے والا انسان یقینا بچوں سے بدتر ہے اور یقینا اس امر کا مستحق ہے کہ ایک عرصہ تک اسے قید و بند میں رکھا جائے۔ لیکن جس وقت حکومت ایسی کمزور ہو کہ وہ باقاعدہ سپاہی نہ رکھ سکتی ہو اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ داری فرداً فردا پڑتی ہو اس وقت قیدیوں کے رکھنے کا بہترین طریق یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو افراد میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ وہ ان سے اپنے اخراجات جنگ وصول کر لیں ۔ جب حکومت کی باقاعدہ فوج ہو اور افراد پر جنگی اخراجات کا بار فردا فردا نہ پڑتا ہو تو اس وقت جنگی قیدی تقسیم نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے۔ ماتحتی کی بڑی صورتوں میں سے اسلام نے غلامی کے نقائص کس طرح دور کئے ایک یہ صورت تھی کہ ماتحت کے ساتھ ذلت کا سلوک کیا جائے اور اس وجہ سے غلامی بری کہلاتی ہے۔ لیکن جب اسلام نے یہ سے وہ حکم دیا ہے کہ مالک جو خود کھائے وہ غلام کو کھلائے اور جو پہنے وہ غلام اغلام کو پہنائے اور اس ۔ کام نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔ اور وہ کام نہ لے جو آقا اس کے ساتھ خود مل کر کرنے کے لئے تیار نہ ہو اور اسے مارے نہیں اگر مارے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا۔ تو ایسے غلام کی حالت ایک چھوٹے بھائی یا بچہ کی طرح ہے۔ اگر چھوٹا بھائی یا بچہ غلام نہیں کہلا سکتا تو یہ شخص بھی غلامی کی عام تعریف سے باہر نکل آتا ہے۔ تیسرا نقص غلامی میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان ہمیشہ کے لئے ایک بات کا پابند ہو جاتا ہے۔ اس کا بھی اسلام نے علاج کر دیا ہے کیونکہ غلام کا حق رکھا ہے کہ وہ اپنا فدیہ دے کر آزاد ہو جائے۔ اور اگر وہ اپنا فدیہ یکدم ادا نہیں کر سکتا تو اپنے مالک سے قسطیں مقرر کرلے۔ اور