انوارالعلوم (جلد 12) — Page 342
انوار العلوم جلد ۱۳ الله العالم حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول میں یہ تیسری صورت جو غلامی کے عام مشہور قاعدہ کے علاوہ دنیا میں رائج ہو گئی تھی، تیسرا طریق یہ تھی کہ لوگ اپنے آپ کو یا پ کو یا اپنے بیوی بچوں کو بیچ ڈالا کرتے تھے۔ اسلام نے اس طریق کو بھی بالکل روک دیا ہے اور ایک عام حکم دے دیا ہے کہ کسی آزاد کو غلام نہیں بنایا جاسکتا خواہ اس کی مرضی سے یا بغیر مرضی کے۔ لیکن میں بتا چکا ہوں کہ بعض حالات میں آزادی سے غلامی بہتر ہوتی ہے۔ ایک آزاد شخص جو بیمار ہے یا جسے کوئی ملازمت کا کام نہیں مل سکتا یا اور کوئی اسی قسم کی بات پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ کی وجہ سے وہ روزی نہیں کما سکتا، وہ آزاد رہتے ہوئے جو تکلیف اٹھائے گا بعض حالات میں غلامی میں اس سے کم تکلیف پہنچے گی۔ اسی طرح جو تکلیف اس کے بچے اس کے پاس اٹھائیں گے ، بالکل ممکن ہے کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ غلامی میں اس سے کم تکلیف اسے پہنچے۔ پس یہ حکم کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو نہیں بچ سکتا اس وقت تک مفید اور قابل عمل نہیں کہلا سکتا جب تک کہ ان مشکلات کا بھی علاج نہ سوچا جائے جو اس حالت میں پیدا ہوتی ہیں۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی کے ماتحت اس حکم کو تو لوگوں نے اختیار کر لیا ہے لیکن اس کے ساتھ جو مشکلات وابستہ ہیں ، ان کا کوئی علاج نہیں کیا۔ مگر محمد رسول الله صلی اللہ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر فرد کا کھانا مہیا کرنا اور اس کا ضروری لباس اور اس کے لئے رہائش کا انتظام حکومت پر یا بالفاظ دیگر ساری قوم پر واجب قرار دیا گیا ہے۔ اور اس طرح اس ضرورت کو جو آزاد کو غلام بنانے پر مجبور کرتی ہے، باطل کر کے غلامی کی ایک شق کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ م دنیوی جنگوں میں کسی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اس کے بعد اب میں وہ صورت لیتا ہوں جو غلامی کی جائز صورت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اور جو یہ ہے کہ کسی شکوہ یا شکایت پر دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں اور ان میں سے غالب آنے والی قوم مغلوب کے افراد کو قید کر کے اپنا غلام بنالے۔ اس قسم کی غلامی میں سے اسلام نے اس غلامی کو تو اُڑا دیا ہے جو دنیوی جنگوں کے نتیجے میں رائج تھی۔ اور اس کے متعلق وہی تعلیم دی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اول تو دنیوی جنگیں نہ ہی ہوں اور اگر ہوں تو ان کا اختتام صلح پر ہونا چاہئے اور محض حقوق کے تصفیہ پر ہونا چاہئے اور غلام وغیرہ نہیں بنانے چاہئیں۔ ان جنگوں کا اصول اسلام نے یہ رکھا ہے کہ دوسری بے تعلق قوموں کو بھی ان میں