انوارالعلوم (جلد 12) — Page 340
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۴۰ محریت انسانی کا قائم کرنے وانا رسول میں یم مگر حقیقت یہی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول الله علی ایم کے ذریعہ سے ہی ان تینوں عیوب کے دور کرنے کا طریق بتایا ہے۔ اس طریق کو نظر انداز کر دو تو یقینا ایک عیب کی اصلاح کرتے ہوئے دوسرا عیب پیدا ہو جائے گا۔ اور اس کی اصلاح کرتے ہوئے پھر تیسرا پھر چو تھا۔ اور ایک گڑھے سے بچنے کی کوشش میں انسان دوسرے گڑھے میں گرے گا جو پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو گا۔ یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اس طریق کی طرف لوٹے گا جسے محمد رسول اللہ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا۔ میں وہ اصول بیان کر چکا ہوں جن کی بناء پر غلامی کے متعلق اسلام کی کامل تعلیم انسانی آزادی پر قید لگانی پڑی پڑی ہے اور وہ اصول بھی بیان کر چکا ہوں جن کی بناء پر انسانی آزادی پر قید لگانا ضروری ہے۔ اور میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ غلامی کی حقیقی تعریف یہی ہے کہ انسان کی آزادی کو سلب کر کے اس کو بعض قیود کا پابند کر دیا جائے۔ اگر ان تینوں امور کے متعلق میری رائے صحیح ہے اور جہاں تک میرا مطالعہ اور میرا علم جاتا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ غلامی کے متعلق اصولی طور پر غور کرنے والے تمام لوگ ان تینوں باتوں میں مجھ سے متفق ہیں ، تو میں کہہ سکتا ہوں کہ رسول اللہ مسلم نے غلامی کے متعلق جو تعلیم دی ہے، اس کے کامل اور اکمل ہونے کے متعلق کسی شخص کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ پہلے میں غلامی کی ان اقسام کو لیتا ہوں جو غلامی کے غلامی کو اسلام نے کس طرح مٹایا مشہور طریق سے جدا ہیں۔ پہلا طریق یہ ہے کہ کسی الله الله صل آزاد کو زیرو لو زبر دستی پکڑ کر بیچ ڈالا جائے۔ اس کے متعلق رسول کریم میں ہم نے یہ تعلیم دی ہے کہ آزاد کو فروخت کرنے والا واجب القتل ہے۔ چنانچہ نجد کے کچھ عیسائیوں نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ ہمیں بعض ہماری ہمسایہ قوموں نے بغیر کسی جنگ کے قید کر کے غلام بنایا ہوا ہے۔ حضرت عمر نے ان کو آزاد کر دیا اور فرمایا کہ اگر یہ جرم اسلام سے پہلے کا نہ ہوتا تو میں اسلامی احکام کے مطابق ان آزادوں کے قید کرنے والوں کو قتل کی سزا دیتا۔ جو شخص اس قسم کی غلامی کے نتائج پر غور کرے وہ اس بات کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس رنگ میں انسان کو قید کر کے اس کے بیوی بچوں اور وطن سے جدا کر دینا ایک نہایت ہی قبیح فعل ہے۔ اور اس کی سزا یقینا قتل ہی ہونی چاہئے۔ کیونکہ ایسا شخص ہزاروں جانوں کو قتل کرتا ہے۔