انوارالعلوم (جلد 12) — Page 333
انوا را العموم چند ۱۲ سم سوم حریت انسانی کا قائم کرنے وانا رسول میں یہ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ الله حب حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول صلی سیم علیه دوم غلامی کا سوال ایسا پیچیدہ سوال ہے کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کو سمجھا ہے اور بہت ہی کم لوگوں نے اسے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ افسوس ہے کہ اکثر لوگوں نے اس سوال کی پیچیدگی کو بھی محسوس نہیں کیا اور بغیر غور اور فکر کے اس کے متعلق رائے قائم کرنی شروع کر دی ہے۔ غلامی نہ ہر زمانہ اور ہر ماحول میں بری قرار دی جاسکتی ہے اور نہ اسے کوئی شخص ایک جنبش قلم سے روک سکتا ہے۔ جو شخص بھی نیچر کا یا ماضی کے ایک لمبے سلسلے کے پیدا کئے ہوئے ماحول کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے، بغیر اس کے کہ اصولی طور پر اس کی تمام مجزئیات کا علاج کرے ، وہ یقینا اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اور عارضی طور پر اگر وہ دنیا کی نگاہوں میں مقبول بھی ہو جائے تو ہو جائے لیکن ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس کا حسن بد صورتی اور اس کی کامیابی ناکامی نظر آنے لگے گی۔ اگر ہم غلامی کے سوال پر ٹھنڈے دل سے غور انسانی تمدن کے مدارج کا ایک درجہ کریں اور اس بات کو نظر انداز کر دیں کہ لوگ ہمیں کیا کہیں گے اور ناموں پر فدا ہونے و نے والے لوگ جو حقیقت پر غور کرنے کے عادی نہیں ہم پر کیا فتوی لگائیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ غلامی در حقیقت انسانی تمدن کے مدارج کے وسیع سلسلے میں سے ایک درجہ ہے اور اسے کلی طور پر دنیا سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ غلامی کا کیا مفہوم ہے ؟ یہی کہ ایک شخص دو سرے کی مرضی کے پورے طور غلامی کا مفہوم پر تابع ہو جاتا ہے یا تابع کر دیا جاتا ہے۔ اب اگر ایک شخص کا دوسرے کی مرضی کے تابع ہو جانا ایک بُرا فعل ہے تو جس طرح ملی طور پر تابع ہونا برا فعل ہے اسی طرح مجزئی طور پر تابع ہونا بھی برا فعل ہو گا۔