انوارالعلوم (جلد 12) — Page 327
ا نو ا را العلوم جلد ۱۲ ۳۲۷ مدیر اخبار " وفاء العرب " سے گفتگو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مدیر اخبار " وفاء العرب" (دمشق) سے گفتگو دمشق کے ایک مشہور ادیب محمود خیرالدین مدیر جریده "وفاء الـ العرب" ہندوستان آئے ۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ملاقات اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے قادیان بھی تشریف لائے اور تین دن ٹھہرے ۔ ہندوستان سے واپس جا کر انہوں نے اپنے اخبار " وفاء العرب" مؤرخہ ۲۹ ذی الحج ۱۳۳۹ھ میں ایک مفصل مضمون لکھا جس کا ترجمه الفضل مؤرخه ۲۰ - اکتوبر ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا۔ مدیر سے حضور کی گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں درج ذیل ہے۔ سوال: ہندوستان کی سیاسی شورش کے متعلق جناب کا کیا خیال ہے؟ اور کیا حکومت برطانیہ اس تگ و دو کے بعد آپ کے تمام حقوق دے دے گی ؟ جواب: یقیناً ایسے حقوق جو طرفین کے لئے مناسب ہوں حکومت کو دینے پڑیں گے۔ حکومت کی یہ زبردست خواہش ہے کہ آپس کی غلط فہمی و عدم اعتمادی کا ازالہ کیا جائے۔ چنانچہ راہنمایان ملک کی ایک مجلس اس امر کے لئے منعقد کی گئی ہے تاکہ ہندوستانی معاملات اور ملکی مفاد کے متعلق بحث و تمحیص اور پھر تصفیہ کریں جس کا نتیجہ یقینا مفید ہی ہوگا۔ سوال: ہم اکثر ہندو مسلم تنازعات و مناقشات کے متعلق سنتے رہتے ہیں اس باہمی اختلافات کے کیا اسباب ہیں؟ جواب: ہندو مسلم معاملہ اس معاملہ سے زیادہ خطرناک ہے جو عہد فرعون میں اقباط کے اور بنی اسرائیل کے درمیان تھا۔ جب ہم عربی اخبارات رات میں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے ہیں تو ہمیں حیرانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ وہ ہماری مشکلات و مصائب سے واقف نہیں۔ ورنہ وہ یقیناً ہمارے ساتھ ان حالات میں اظہار ہمدردی اور تعاون کرتے ۔ دیکھئے تو ہندوستان XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX