انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 303

انوار العلوم جلد ۱۴ ۳۰۳ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت پس ممکن ہی نہیں کہ بغیر ان قربانیوں کے ہماری جماعت ترقی کر سکے از لی تقدیر کا منشاء کیونکہ اگر ترقی مل جائے تو قربانی کا موقع باقی نہیں رہ سکتا اور ایک از لی تقدیر پوری ہوئے بغیر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ، کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف اس قدر کہہ دیں کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اور اتنا کہنے پر اللہ تعالیٰ انہیں بغیر ابتلاؤں میں ڈالنے کے چھوڑ دے اور مقدر ترقیات دے دے یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہیں وہ قربانیاں جو ترقیات کیلئے ضروری ہیں ، ضرور دینی پڑیں گی اور تب جا کر انہیں کامیابی ہو گی ۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالی ان قربانیوں کی نوعیت یہ بیان فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ لو ہم ضرور تم کو کسی قدر خوف اور بھوک اور اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ سے آزمائیں گے اور اے ہمارے رسول ملا تو ان لوگوں کو جو ان ابتلاؤں کے اوقات میں اپنے راستہ سے ہٹیں نہیں اور مضبوطی سے دین کی راہ میں قربانیاں کرتے چلے جائیں ہماری طرف سے بشارت اور خوشخبری پہنچا دے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ سب ترقیات خواہ سب ترقیات قربانیوں سے وابستہ ہیں روحانی ہوں یا جسمانی قربانیوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور قربانیاں بھی وہ جو عام طور پر لوگوں کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ پس جب تک اس حد تک ہماری جماعت کی قربانیاں نہ پہنچیں حقیقی ترقیات نہیں ہو سکتیں اور جیسا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی تھی ضرور ہے کہ ایسے سامان پیدا ہوں جن کی امداد سے ہماری جماعت کو ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ چند سال سے ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور مجھے نظر آتا ہے کہ ہماری جماعت کو مالی قربانیاں ایسی حد تک کرنی پڑیں گی جو واقع میں دل کی طہارت اور روح کی ترقی کا موجب ہو سکیں۔ تین سال سے متواتر دنیا کی مالی حالت خراب ہو رہی ہے اور دنیا کی مالی حالت کی خرابی سلسلہ کے کاموں کی زیر باری بھی لازماً بڑھ رہی ہے اور آئندہ اور بھی بڑھنے کا ڈر ہے کیونکہ ماہرین اقتصادیات کا اندازہ ہے کہ چار پانچ سال تک دنیا کا