انوارالعلوم (جلد 12) — Page 301
انوار العلوم جلد ۱۲ ٣٠١ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت کاو أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ مؤمنوں کیلئے قربانی کا وقت من انصاری الی الله اے برادران جماعت احمدیہ ! اللہ تعالیٰ کی اللہ تعالیٰ کی سنت اپنے بندوں اپنے بندوں کے متعلق سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو پہلے ابتلاؤں کے دریاؤں میں سے گزارتا ہے تب جا کر انہیں اپنے قرب سے مشرف کرتا ہے۔ چنانچہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی جماعت کو سخت سے سخت ابتلاء میں ڈال کر اس کا امتحان نہ لیا ہو یا مصائب کی بھٹی میں ڈال کر اسے صاف نہ کیا ہو ۔ جب اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اپنے خون سے یا اپنے مال یا وطن کی یا عزیز و اقارب کی قربانی سے اپنے صدق پر مہر لگائی تھی جا کر وہ خدا تعالیٰ کے مقبول ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حضور میں انہیں عزت بخشی۔ ہاں اس کی سنت کے مطابق یہ قربانیاں شروع سے دو طرح کی چلی آئی دو طرح کی قربانیاں ہیں۔ ایک وہ جو پے در پے اور متواتر اور تمام اقسا تمام اقسام کی ہوتی تھیں اور ایک وہ جو آہستگی سے لیکن لمبے عرصہ تک دینی پڑتی تھیں۔ مقصد دونوں قسم کی قربانیوں کا ایک ہی تھا گو طریق مختلف تھا۔ اس امت میں بھی ضرور تھا کہ دونوں قسم کی قربانیاں ہوں۔ چنانچہ رسول کریم می اید رسول کریم میں اور آپ کے صحابہ کی قربانیاں آئے اور آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید قربانیاں جو تمام قسم کی قربانیوں پر مشتمل تھیں اور جو اپنی نظیر آپ ہی تھیں،