انوارالعلوم (جلد 12) — Page 291
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۹۱ امیرا باید یث کے چیلینج میابد کا جواب گو میں خود ہزار یا اس سے بھی زائد آدمی انشاء اللہ ہمراہ لاؤں گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جب سے مباہلہ کا ذکر شروع ہوا ہے سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کے خطوط اور تار میرے پاس نهایت لجاجت کے آ رہے ہیں کہ انہیں اس مباہلہ میں شامل کیا جائے۔ میں نے اوپر کی بات بحث کو مسنون مباہلہ میں جماعت کی شمولیت ضروری ہے روکنے کے لئے فرضاً لکھی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مسنون مباہلہ میں جماعت کی شمولیت ضروری ہے اور الفاظ قرآنیہ سے یہی امر ثابت ہے۔ سید صاحب کا یہ لکھنا کہ جمع کے الفاظ اس لئے لکھے گئے ہیں کہ یہ آیت قیامت تک کے لئے ہے اور بعض لوگوں کے اہل زیادہ ہوتے ہیں، درست نہیں۔ کیونکہ سوال یہ نہیں کہ آیت میں اَبْنَاءَ وَ نِسَاءَ کے الفاظ جمع آئے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آیت کریمہ میں مخاطبین کو تعالوا کہہ کر بلایا ہے۔ جو جمع کا صیغہ ہے۔ چونکہ مخاطب کے وجود میں متکلم کا وجود شامل نہیں ہوتا۔ اس لئے بہر حال تعالوا میں وہی لوگ شامل سمجھے جائیں گے جنہیں مباہلہ کے لئے بلایا ہے اور چونکہ تَعَالَوْا جمع کا لفظ ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ رسول کریم میں ہم نے جن لوگوں کو مباہلہ کے لئے بلایا ہے۔ وہ ایک جماعت ہے نہ کہ فرد واحد ۔ دوسرا استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ اَنْفُسَنَا کا بھی آتا ہے۔ یعنی آؤ ہم اپنے اپنے نفوس کو بلائیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو بلانے کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے اور خصوصاً جب کہ بیویوں اور بچوں کو بلوانے کا پہلے ذکر آچکا ہے اس کے بعد اپنے نفسوں کو بلانے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ پس اَنْفُسَ کے معنی یقیناً ساتھی اور ہم خیال لوگوں کے لینے پڑیں گے اور یہ قرآن کریم کے محاورہ کے عین مطابق بھی ہے۔ سورۃ نور میں ۔ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ على یعنی جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے آدمیوں اور ساتھیوں کو سلام کہا کرو۔ سید صاحب اس حکم کی تعمیل میں کسی گھر میں داخل ہوتے ہوئے یقینا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ہی کہتے ہوں گے اور اَنْفُسَكُمْ کے لفظ کے یہ معنی نہ کرتے ہوں گے کہ گھر میں داخل ہو کر یہ کہیں ۔ کہ السّلامُ عَلَی ۔ غرض یہ کہ آیت زیر بحث میں اَنْفُسَكُمْ کے معنے ساتھیوں اور ہم خیال کے ہی لئے جا سکتے ہیں۔ اور یہ معنی دوسری آیات قرآنیہ کے عین مطابق ہیں۔ تیسرا استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں ابناء ناو أَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ كُمُ کہا گیا ہے ۔ چونکہ ابْنَاءَ كُمُ اور نِسَاءَ كُمُ الگ کہا گیا