انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 288

انوار العلوم جلد ۱۳ : ۲۸۸۰ اميرا الحدیث کے چیلنج مباہلہ کا جواب اب رہا یہ سوال کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیوں مولوی عبدالحق صاحب سے بغیر مباحثہ کے مباہلہ کیا۔ تو اس کا جواب میں اگلے سوال کے ساتھ ملا کر اکٹھا دوں گا۔ مباہلہ میں جماعت کی شمولیت میری تیسری شرط کہ مباہلہ میں دونوں طرف سے جماعتیں ہونی چاہئیں۔ اس کے متعلق ایک تو سید صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ ضروری ہے تو کیوں بانی سلسلہ احمدیہ نے مولوی عبدالحق صاحب سے اکیلے مباہلہ کیا اور دوسرے یہ کہ مباہلہ میں فریقین کے ساتھ جماعت کی شمولیت احادیث سے ثابت نہیں۔ پہلے امر کا جواب یہ ہے کہ مباہلہ میں دونوں طرف سے جماعت ہونے کے متعلق بھی بانی سلسلہ احمدیہ کا وہی عقیدہ تھا جو میں نے بیان کیا ہے۔ مولوی عبدالحق صاحب کو ہی مخاطب فرما کر آپ اپنے اشتہار مورخہ ۱۲۔ اپریل ۱۸۹۱ء میں فرماتے ہیں:۔ نیز آیاتِ موصوفہ بالا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسنون طریقہ مباہلہ کا یہی ہے کہ دونوں طرف سے جماعتیں حاضر ہوں۔ اگر جماعت سے کسی کو بے نیازی حاصل ہوتی تو اس کے اول مستحق ہمارے نبی میں یہ تھے۔ یہ کیا انصاف کی بات ہے جو ہمارے نبی مباہلہ کیلئے جماعت کے محتاج ٹھیرائے جائیں اور میاں عبد الحق اکیلے کافی ہوں۔ لاہ پھر فرماتے ہیں :۔ اب ناظرین یہ یاد رکھیں کہ جب تک یہ تمام شرائط نہ پائے جائیں تو عند الشرع مباہلہ ہرگز درست نہیں۔ ۱۲ ১৯ اب رہا یہ سوال کہ اس مولوی عبدالحق صاحب سے مسنون مباہلہ نہیں کیا گیا عقیدہ کے باوجود آپ اپنے D مولوی عبدالحق صاحب سے اکیلے مباہلہ کیوں کیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ا پ نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ چنانچہ آپ کے آخری اشتہار میں لکھا ہے :۔ اے برادرانِ اہلِ اسلام ! کل دهم ذیقعده روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میاں عبد الحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے، اس عاجز XXXXXXXXXXXXXX