انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 261

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۶۱ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل کہ جس سال ان کی فصل زیادہ ہو جائے وہ ان کی آمد کی زیادتی نہیں کیونکہ بعض سال ان کی عمر میں ایسے بھی آئیں گے جن میں ان کی فصل کم ہو گی۔ پس اوسط آمدن سے زائد آمدن کسی سال میں ہو جائے تو اس کو خرچ نہیں کرنا چاہئے۔ وہ تو کم پیداوار والے سالوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے۔ الغرض زمینداروں کو چاہئے کہ اول اپنی اوسط زمیندار کیا طریق عمل اختیار کریں آمد کایا نکالیں۔ دوم اپنا دوم اپنا اوسط خرچ نکالیں اور اس خرچ میں اپنے عارضی اخراجات شادی بیاہ وغیرہ بھی شامل کر لیں۔ سوم اگر کسی سال اوسط آمد زائد آمد ہو جائے تو اسے بالکل نہ چھو ئیں کیونکہ وہ صرف کم آمد والے سالوں کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے ہے۔ چہارم چونکہ اپنے پاس رقم جمع کرنی مشکل ہوتی ہے وہ ایسی سوسائٹیاں بنائیں جن میں وہ ہر سال اپنی آمد کا وہ حصہ جو انہوں نے شادی بیاہ وغیرہ کی قسم کے وقتی اخراجات کے لئے مقرر کیا ہے جمع کراتے رہیں۔ جب ایسی ضرورتیں پیش آئیں اس وقت وہاں سے رقم نکلوا کر اس کو خرچ کر لیں۔ یہ اس قسم کی سوسائٹیاں بنائیں جن کے ممبر اپنے اپنے طبقے کے مطابق ایک رقم مقرر کر لیا کریں۔ مثلا یہ کہ اس سوسائٹی کا ہر ممبر دو سرے ممبر کی شادی وغیرہ کی تقریبوں پر پانچ پانچ یا دس دس روپے دیا کرے گا۔ اس طرز پر بھی اس مشکل کا حل ہو سکتا ہے اور زمیندار قرض سے بچ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس سے پہلے اسی قسم کی تجویز پر عمل کیا جاتا رہا ہے جسے اردو میں نیوتا اور پنجابی میں نیوند را کہتے ہیں لیکن اس کی بنیاد رشتہ داری یا دوستی پر ہے مالی حیثیت پر نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب رشتہ دار یا برباد ہو جاتے ہیں یا ذلیل ہو جاتے ہیں۔ وہ رسم ترک کرنے کے قابل ہے۔ اس مشکل کا حل رشتہ داروں کا نیو تا نہیں بلکہ ایک حیثیت کے آدمیوں کا اقتصادی سوسائٹیاں بنانا ہے۔ چونکہ سب لوگ اس میں ایک ہی قسم کی حیثیت کے ہوں گے اور امداد مقرر ہو گی۔ اس لئے کسی پر نہ زائد بوجھ پڑے گا اور نہ اسے اپنے ہم جنسوں میں شرمندہ ہونا پڑے گا۔ چوتھا سبب جو ہندوستان کے زمینداروں کو مستقل طور پر اقتصادی نقصان پہنچا چوتھا سبب رہا ہے وہ بد رسومات ہیں جن کی وجہ سے اپنی طاقت سے زیادہ انہیں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ روبی