انوارالعلوم (جلد 12) — Page 258
انو ا ر ا لعموم جلد ۱۲ ۲۵۸ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل ہمسایہ قرض لینے پر مجبور ہے وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ بھی زمیندار ہے اور ہم بھی زمیندار ہیں۔ غرض اس طرح ملک روز بروز تباہی کے گہرے گڑھے میں گرتا جاتا ہے۔ میں خود او پر لکھ چکا ہوں کہ پنجاب میں روس والی سکیم جاری نہیں کی جاسکتی لیکن ہم اس امر کا بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا موجودہ طریق بھی ہمیں تباہی سے بچا نہیں سکتا۔ پس اگر ہمارا ملک تباہی سے بچنا چاہتا ہے تو ہمیں روس کی سکیم اور ہمارے موجودہ دستور العمل کے درمیان میں کوئی سکیم ایجاد کرنی پڑے گی اور اگر ہمارے ملک کے زمیندار ایسا نہیں کریں گے تو آج نہیں تو کل ان کی اولادیں بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گی۔ لیکن جس آبادی کا ایک معتد بہ حصہ بھیک مانگنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو وہاں بھیک دینے والے کہاں سے آئیں گے؟ جنوبی امریکہ میں ان دونوں طریق کے درمیان میں ایک سکیم پر زمینداروں کی کمپنی عمل کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ زمین تو ہر زمیندار کی سمجھی جاتی ہے لیکن سارے گاؤں کے زمیندار مل کر ایک کمپنی بنا لیتے ہیں۔ جس کا حصہ بجائے روپیہ کی صورت میں ادا کرنے کے زمین کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ چونکہ ایک بڑا ٹکڑا زمین کا اکٹھا مل جاتا ہے۔ اس کی کاشت مشترکہ کوشش کے ساتھ کی جاتی ہے اور نتائج قریب ویسے ہی پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ روس میں ہو رہے ہیں مگر زمیندار اپنی زمین سے بھی محروم نہیں رہتا اور ہر ایک زمیندار کو اس کے مطابق حصہ مل جاتا ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ اس قسم کی سکیم پر پنجاب کے زمینداروں کے لئے عمل کرنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک کہ کوئی قیامت خیز تغیر پیدا نہ ہو جائے۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ ہم کو فورا یہ طریق اختیار کر لینا چاہئے جو کچھ میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس طریق پر اب ہماری زمینوں کی کاشت ہو رہی ہے۔ اس طرح زمینداروں کا گزارہ بالکل نہیں چل سکتا اور جس قدر آدمی اس وقت زمین سے گزارہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس قدر آدمیوں کا گزارہ پنجاب کی زمین سے نہیں ہو سکتا۔ پس ہمیں کوئی ایسی درمیانی راہ نکالنی چاہئے کہ جس کے ذریعہ سے زمینداروں کی حالت درست ہو سکے خواہ وہ جنوبی امریکہ والی تجویز ہو یا کوئی اور میرے نزد نزدیک بہتر صورت یہ ہوگا یہ ہوگی کہ ایک زمینداره ! انجمن زمیندارہ انجمن بنائی جائے مستقل اصول پر بنائی جائے جس کا کام ہو کہ دو تن و تا 303 XXXXXX