انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxix of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxix

انوار العلوم جلد ۱۲ تعارف کتب طریق اختیار نہیں کر رہی۔ (۱۵) حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول جب ہندوؤں کی طرف سے ”رنگیلا رسول“ اور ”’ ورتمان“ وغیرہ کتب کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف گستاخیاں انتہا کو پہنچ گئیں تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی انتہا تو نے ۱۹۲۸ء میں سیرۃ النبی کے جلسوں کی بنیاد رکھی اور فرمایا :۔ صلى الله لوگوں کو آپ پر (یعنی آنحضرت ﷺ پر حملہ کرنے کی جرات اس لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے حالات سے ناواقف ہیں یا اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ نا واقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے۔ ( الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۲۸ء ) حضور کی اس بابرکت تحریک نے ہندوستان کی مذہبی تاریخ پر خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً بہت اچھا اور گہرا اثر ڈالا ۔ ہر سال ایک مقررہ تاریخ پر ہر جگہ سیرۃ النبی کے جلسے ہونے لگے اور اخبارات سیرت رسول پر خاص نمبر نکالنے لگے۔ روزنامہ الفضل قادیان نے جو خاتم النبین نمبر مؤرخہ ۸ نومبر ۱۹۳۱ء کو شائع کیا اس کے لئے خاص طور پر حضور نے یہ مضمون رقم فرمایا۔ آپ نے غلامی کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس با بارہ میں اسلام اسلامی تعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:۔ ہر شخص جو ان احکام کو پڑھے معلوم کر سکتا ہے کہ غلامی ہے کہ غلامی کا جو مفہوم دنیا میں پایا جاتا ہے اس کی رو سے اسلام میں کوئی غلامی رائج نہیں ۔۔۔ پس مبارک ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود جنہوں نے اس غلامی کو جو دنیا کیلئے مصر تھی مٹایا اور دنیا کو حقیقی آزادی عطا کی ۔ وہ نادان جو لفظا غلامی کو مٹاتے ہیں اور عملاً اسے قائم