انوارالعلوم (جلد 12) — Page 241
انوار العلوم جلد ۱۲ ا مهم اسلام تحریک آزادی کشمیر سکتے۔ پس ضرورت ہے ایسے والنٹیئروں کی جو اپنی خدمات کو قومی کاموں کے لئے وقف کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ایسے لوگ اگر ایک ایک دو دو درجن بھی ہر شہر اور قصبہ میں مل جائیں تو ہندو ایجی ٹیشن کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ مجھے بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ حکومت مسٹر عبد اللہ کی قید کو لمبا کرنے کی فکر میں ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہندو اس بارہ میں پورا زور لگائیں ۔ پورا زور لگائیں گے۔ لیکن میں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جہاں بعض حلقوں میں یہ سوال زیر غور ہے وہاں بعض حلقوں میں سیاسی قیدی چھوڑ کر اچھی فضاء پیدا کرنے نے کا خیال بھی پیدا ا پیدا ہو رہا ہے۔ اور کیا تعجب ہے کہ دوسری تحریک پہلی پر غالب آ جائے۔ پس ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم ہوشیاری سے سب حالات کو دیکھیں اور جس رنگ میں ہمارا فائدہ نظر آتا ہو اس کے مطابق کام کریں۔ بعض لوگوں کو وزارت کے متعلق بھی شکایات ہیں۔ میں اس کے متعلق بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی اصلاح کے متعلق بھی ہم کوشش کر رہے ہیں۔ اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک ایک کام کرنے والی وزارت مقرر نہ ہوگی، ہم انشاء اللہ صبر نہیں کریں گے اور ایسے آثار ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس امر میں ہمیں کامیابی ہوگی۔ میں نے گذشتہ خط میں لکھا تھا کہ میں کشمیر آنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ بعض دوستوں کو اس سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں قریب زمانہ میں وہاں آنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ بلکہ میرا ارادہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہمارے قیدی بھائیوں کو آزاد کرے تو آئندہ تنظیم کے پروگرام پر مشورہ کرنے کے لئے وہاں آؤں تاکہ جو فوائد گذشتہ سیاسی جنگ میں ہم نے حاصل کئے ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ اللہ تعالٰی آپ لوگوں کے ساتھ ہو ۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی ۶۱۹۳۲ - ۵-۲۷ پمفلٹ شائع شدہ ۔ اللہ بخش سٹیم پر نیس قادیان !