انوارالعلوم (جلد 12) — Page 223
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۲۳ تحریک آزادی کشمیر أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ برادران خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا چھٹا خط (سلسلہ دوم) میں اپنے پچھلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق پوری کوشش کر رہی ہے اور میں نے یہ ذکر بھی کیا تھا کہ ایک وفد چار تاریخ کو جناب وائسرائے صاحب کی خدمت میں پیش ہونے والا ہے۔ جو آپ لوگوں کی تکالیف کے متعلق آپ سے تفصیلی گفتگو کرے گا۔ یہ وفد چار تاریخ کو پیش ہوا اور اس کے ممبر مندرجہ ذیل اصحاب تھے ۔ (1) نواب عبد الحفيظ صاحب ڈھاکہ (۲) خواجہ حسن نظامی صاحب (۳) مولانا شفیع داؤدی صاحب (۴) نواب صاحب گنجچوره (۵) سید مسعود احمد شاہ صاحب بہار (۶) اے ایچ غزنوی صاحب بنگال (۷) سید محسن شاہ صاحب (۸) خان بهادر رحیم بخش صاحب (۹) ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب لاہور (۱۰) سید حبیب صاحب (۱۱) ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب یوپی (۱۲) شیخ فضل حق صاحب بھیرہ (۱۳) کپتان شیر محمد صاحب دو میلی (۱۴) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب (۱۵) مولوی عبدالرحیم صاحب درد ۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے وفد میں شامل نہ ہو سکے ۔ وفد نے جو ایڈریس حضور وائسرائے کی خدمت میں پیش کیا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :۔