انوارالعلوم (جلد 12) — Page 208
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۰۸ تحریک آزادی کشمیر ہوا تھا۔ کشمیر سے متواتر یہ آواز آ رہی تھی کہ آزاد کمیشن مقرر کرایا جائے اور باہر کے مسلمانوں نے اس کی تائید کی۔ پس اس قسم کے نتائج سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔ یڈلٹن کمیشن پر نہ آپ کو کوئی نا قابل برداشت قربانی کرنی پڑی کی ہے اور نہ اس رپورٹ سے ہماری پہلی پوزیشن میں کوئی نقص واقع ہوا ہے۔ اس کمیشن کا مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے اس خیال سے تھا کہ اگر وہ انصاف پر مبنی ہوا تو مسلمانوں کی طرف غیر جانبدار لوگوں کی توجہ ہو جائے گی۔ اب اگر خلاف فیصلہ ہوا ہے تو حالت وہیں کی وہیں آگئی جہاں پہلے تھی۔ پس نقصان کچھ نہیں ہوا۔ ہاں اگر فیصلہ درست ہوتا تو فائدہ ہو سکتا تھا۔ پس مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ قومی جنگوں میں اُتار چڑھاؤ ہوتے رہتے ہیں۔ رسول کریم میم کے زمانہ کے متعلق بھی آتا ہے کہ لڑائی ڈول کی طرح تھی۔ کبھی کسی کا ڈول کنویں میں پڑتا اور کبھی کسی کا۔ پس اگر فی الواقع مسلمانان کشمیر کا ارادہ آزادی حاصل کرنا ہے تو انہیں اپنے دل وسیع اور مضبوط کرنے چاہئیں اور اپنی ہمتیں بلند اور اس قسم کی تکلیفوں اور ناکامیوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ وہ یاد رکھیں کہ بڑے کام چھوٹے حوصلوں سے نہیں ہوتے۔ اور اگر ان کا منشاء صرف تکلیفوں سے بچنے کا ہے تو اس کا آسان علاج ہے کہ ہتھیار ڈال دیں۔ اس صورت میں کچھ دنوں تک یہ ظاہری ظلم بند ہو کر اسی سابقہ گند چھری سے ہندو افسرانہیں قربان کرنے لگیں گے جس سے پہلے قربان کیا کرتے تھے۔ لیکن اس موت میں نہ کوئی شان ہوگی نہ مسلمانوں کی ان سے سے ہمدردی ہوگی۔ ہم لوگ آپ لوگوں کے بلانے پر آئے ہیں اگر آپ لوگ خاموش ہونا چاہیں تو ہم بھی خاموش ہو جائیں گے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ مایوسی صرف چند لوگوں کا حصہ ہے مسلمانوں کی کثرت اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے آزادی حاصل کرنے کے لئے جان و دل سے مستعد ہے اور یہی کثرت ہے جو آخر باوجود ہمت ہارنے والوں اور مایوس ہونے والوں کے انشاء اللہ کامیاب ہو کر رہے گی۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں گلینسی کمیشن پر کیا اعتبار رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گلینسی کمیشن سے بھی خطرہ ہے جس طرح مڈلٹن کمیشن میں خطرہ تھا۔ لیکن اگر اس کمیشن نے بھی ہماری امیدوں کے خلاف فیصلہ کیا تو ہمارا کیا نقصان ہو گا۔ کیا انگریز کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہمارے مذہب کا جزو ہے۔ اگر مسٹر گلینسی نے مسٹریڈلٹن والا طریق اختیار کیا تو ہم رلٹن رپورٹ کی طرح اس کی غلطیوں کا بھی پردہ فاش کریں گے۔ اور اگر اس میں مسلمانوں XXXX