انوارالعلوم (جلد 12) — Page 201
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۰۱ تحریک آزادی کشمیر اس کے بعد میں آپ لوگوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ رسول نافرمانی کا لفظ جو بد قسمتی سے بعض لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور جس کے سبب انگریزی حکومت نے دھوکا کھا کر ریاست کو سختی کرنے کی اجازت دے دی تھی اسے بالکل ترک کر دیں اور ہر اک شخص کو سمجھائیں کہ غلط لفظ استعمال کرنے سے بھی سخت نقصان ہے۔ وہ ایسے لفظوں کا استعمال ترک کر دیں اور ایسے طریقوں سے بچیں کہ جن کے ذریعہ سے انگریزی حکومت کو ریاستی حکام دھوکا دے سکیں۔ یاد رکھیں کہ آزادی یا تلوار کے زور سے حاصل ہو سکتی ہے یا انگریزوں کی امداد ہے۔ اور تلوار سے آزادی کا حصول آپ لوگوں کے لئے ناممکن ہے پس ایسے طریقے اختیار کرنے جن سے انگریزوں کی ہمدردی بھی جاتی رہے ہرگز عقلمندی کا شیوہ نہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے دیکھ لو کہ پہلے کس قدر نقصان ہوا ہے۔ صرف میر پور کے علاقہ میں چند نوجوانوں نے غلطی سے سول نافرمانی کا سوال اٹھایا اور وہاں کے علاوہ تمام ریاست کشمیر پر ظلم کی انتہاء ہو گئی۔ کارکن گرفتار ہو گئے، عورتوں کی بے عزتی ہوئی اور بچے بلاوجہ بیٹے گئے۔ جس سول نافرمانی نے اب تک انگریزی علاقہ میں جہاں رعایا پہلے سے آزاد ہے کچھ نفع نہیں دیا بلکہ مسٹر گاندھی اس کے بانی اب تک قید ہیں اور سب مسلمان اس کا تجربہ کر کے اس کی مخالفت کر رہے ہیں اس نے وہاں کیا نفع دینا ہے سوائے اس کے کہ مہذب دنیا اس کی وجہ سے مسلمانوں کو باغی کہنے لگے اور ریاست کا دلی منشاء پورا ہوا اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں ابتدائی انسانی حقوق کے متعلق اگر کسی وقت سب لیڈروں کے مشورہ سے ریاست کے ظالمانہ اور خلاف شریعت احکام کے ماننے سے انکار کیا جائے تو وہ رسول نافرمانی نہ ہوگی کیونکہ ابتدائی حقوق سے محروم کرنیوالی حکومت عُرفِ عام میں خود باغی کہلاتی ہے ان احکام کے نہ ماننے والے لوگ باغی نہیں کہلاتے مگر اس کے متعلق میں تفصیل سے بعد میں لکھوں گا۔ اس وقت سب سے اہم بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ گلینسی کمیشن اس وقت جلد جلد اپنا کام ختم کر رہا ہے۔ اس کمیشن کی رپورٹ پر انگریزی حکومت کی آئندہ امداد کا بہت کچھ انحصار ہے۔ میں خود بھی اس کمیشن کے سامنے پیش کرنے کو ایک بیان لکھ رہا ہوں لیکن آپ لوگوں کی کئی تکالیف ہوں گی جو - وں گی جو مجھے معلوم نہیں اس لئے جس جس علاقہ میں میرا یہ خط پہنچے وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ اپنی شکایات اور ان کے ثبوت لکھ کر جلد سے جلد مفتی جلال الدین صاحب کو جو مسٹر عبداللہ صاحب کے جانشین ہیں ، سری نگر بھجوا دیں تاکہ وہ کمیشن کے آگے