انوارالعلوم (جلد 12) — Page 199
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹۹ تحریک آزادی کشمیر أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اہل کشمیر کے دو اہم فرض میرا دو سراخط (سلسلہ دوم) برادران کشمیر السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ میرا پہلا خط آپ کو مل گیا ہے اور گورنر کشمیر نے اسے ضبط شدہ بھی قرار دے دیا ہے۔ یہ ریاست کشمیر کی بد قسمتی ہے کہ اس میں گورنر جیسے عہدہ پر جاہلوں اور ناقابلوں کا تقرر ہوتا ہے اور مہاراجہ صاحب کی حکومت کے چلانے کے لئے ایسے لوگ مقرر ہوتے ہیں جو ان خطوط کو ضبط کرتے ہیں جن میں پُر امن رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ افسوس کہ مہاراجہ صاحب ان امور سے ناواقف ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے افسر خود ان کی حکومت کی جڑ پر تبر رکھ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ سے کھا کر انہی کے ہاتھ کو کاٹ رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ لوگ دل سے خیال کرتے ہوں کہ مہاراجہ صاحب کی وفاداری کرتے ہیں لیکن مجھے تو شبہ ہے کہ یہ لوگ دل سے بھی مہاراجہ صاحب کے بد خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن کی تعلیم دینے والوں کی کوششوں کو کمزور کر کے ریاست میں بغاوت پھیلائیں۔ بہر حال اگر یہ لوگ مہاراجہ صاحب اور ریاست کے دشمن نہیں تو نہایت بیوقوف دوست ضرور ہیں۔ عزیز دوستو! جو میرے پہلے خط کا حشر ہوا وہی اس خط کا بھی ہو سکتا ہے اس لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ آپ لوگ یہ احتیاط کیا کریں کہ میرا مطبوعہ خط ملتے ہی فورا اسے پڑھ کر دوسروں تک پہنچا دیا کریں تاکہ ریاست کے ضبط کرنے سے پہلے وہ خط ہر اک کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہو اور تاکہ ہر مسلمان اپنے فرض سے آگاہ ہو چکا ہو اور بہتر ہو گا کہ جس کے ہاتھ میں میرا خط پہنچے وہ اس کا مضمون اُن مردوں، عورتوں اور بچوں کو منا دے جو پڑھنا نہیں