انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 195

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۹۵ تحریک آزادی کشمیر جس طرح قید ہونے سے خود آپ لوگوں کے دل اور جسم کو تکلیف پہنچ سکتی ہے اس طرح مسٹر عبداللہ کے عزیزوں کو بھی اور ان کے دل اور جسم کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ پس اس پر خوش نہ ہوں کہ آپ کا لیڈر آپ کے لئے قید میں ہے کیونکہ یہ غداری اور بے وفائی کی کمینہ مثال ہوگی بلکہ اس امر کے لئے تیار رہیں کہ اگر موقع آئے تو آپ بھی اور آپ کے عزیز بھی بلکہ آپ کی عورتیں بھی قید ہونے کو تیار رہیں گی۔ یہ بھی منت خیال کریں کہ جب ہمیں امن کی تعلیم دی جاتی ہے تو ہمیں قید ہونے کا موقع کس طرح مل سکتا ہے کیونکہ مسٹر عبد اللہ کو بھی ریاست نے بلا وجہ اور بلا قصور گرفتار کیا ہے۔ اور اسی دفعہ نہیں پہلے بھی اسی طرح بلا وجہ انہیں قید کرتی رہی ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آپ پ کو بھی کسی وقت وقت ریاست بلا وجہ قید کر لے۔ پس اپنے نفسوں کو تیار رکھیں اور اپنی اولاد کو بھی سمجھاتے رہیں کہ ملک کی خاطر قید ہونا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ عزت ہے۔ میں نے اپنے ایک پہلے خط میں لکھا تھا کہ مسٹر عبد اللہ اور دوسرے لیڈر جب تک آزاد نہ ہوں۔ آپ لوگ روزانہ ان کے لئے دعا کرتے رہا کریں اور اپنی اولادوں کو بھی اس میں شامل کیا کریں۔ میں اس بات کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آج سے آپ لوگ متواتر رات کو سونے سے پہلے خدا تعالیٰ سے اپنے مذہب اور طریقہ کے مطابق مسٹر عبد اللہ کیلئے اور اہل کشمیر کو انسانی حقوق ملنے کیلئے دعا کیا کریں۔ نیز میں مساجد کے اماموں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر جمعہ کے دن تمام نمازیوں سمیت مناسب موقع پر کشمیر کی آزادی اور مسٹر عبداللہ اور دیگر لیڈران کشمیر کی حفاظت اور رہائی کیلئے دعا کیا کریں۔ اس کا فائدہ ایک تو یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آکر ان ظالموں کا خاتمہ جلد کر دے گی جو اہل کشمیر پر روا رکھے جاتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر گھر میں اور بچوں تک بھی یہ تحریک پہنچ جائے گی۔ یاد رکھیں کہ ریاست یہ قانون تو بنا سکتی ہے کہ کہ گزر گاہوں یا مساجد میں آپ کو اور آپ کے بچوں کو اور آپ کی عورتوں کو کوئی شخص ملک کے صحیح حالات نہ بتائے۔ لیکن کوئی ریاست خواہ کس قدر زبردست کیوں نہ ہو ، اس امر کا انتظام نہیں کر سکتی کہ ہر گھر میں اپنے سپاہی بٹھا دے۔ پس اگر قانون نے مجلسوں کا دروازہ آپ کے لئے بند کر دیا ہے تو اپنے گھروں میں اپنی عورتوں اور بچوں کو بٹھا کر دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالی کی مدد چاہو اور اپنی عورتوں اور اپنے بچوں کی قومی تربیت بھی کرو۔