انوارالعلوم (جلد 12) — Page 183
ا نو ا ر ا لعلوم جلد ۱۳ ۱۸۳ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر ۳ مکری و معظمی راجہ سرہری کشن صاحب کول۔ آپ کا خط مجھے ملا۔ اگر ہزہائی نس مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر خیال فرماتے ہیں کہ میری ملاقات سے کوئی بہتر صورت پیدا ہو سکتی ہے اور امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے تو مجھے ان کی ملاقات کے لئے کسی مناسب مقام پر آنے پر کوئی اعتراض نہیں میں بڑی خوشی سے اس کام کو کروں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا فائدہ مہاراجہ صاحب کے منشاء پر منحصر ہے کیونکہ فائدہ تبھی ہو سکتا ہے اگر مہاراجہ صاحب مجھ سے اس امر پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات میں سے کون سے ایسے امور ہیں جن کے متعلق خود مہاراجہ صاحب اعلان کر سکتے ہیں اور کون سے ایسے امور ہیں جن کا اصولی تصفیہ اس وقت ہو سکتا ہے لیکن ان کی تفصیلات کو گلینسی کمیشن کی رپورٹ تک ملتوی رکھنا ضروری ہے اور کون سے ایسے امور ہیں کہ جن کے لئے گلی طور پر گلینسی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگر مہاراجہ صاحب اس قسم کی گفتگو کرنے پر تیار ہوں اور اس امر کو پسند فرمالیں کہ وہ کسی مناسب مقام پر جیسے چھاؤنی سیالکوٹ میں تشریف لے آئیں تو میں چند ممبران کشمیر کمیٹی کو ہمراہ لے کر وہاں آ جاؤں گا تاکہ جو گفتگو ہو میں فوراً اس کے متعلق ممبروں سے گفتگو کرلوں اور فیصلہ بغیر ناواجب دیر کے ہو سکے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا انتظام ہو گیا تو یقیناً ریاست اور مسلمانوں دونوں کے لئے مفید ہو گا۔ کیونکہ میرا یا میرے ساتھیوں کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ فساد پھیلے ۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی صورت پیدا ہو جائے۔ اس صورت میں ہم پوری طرح امن کے قیام کیلئے کوشش کریں گے۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد تاریخ احمدیت جلد ششم ضمیمہ نمبر ۲ صفحه ۵۴ مطبوعه ۱۹۶۵ء)