انوارالعلوم (جلد 12) — Page 172
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۲ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر ۲ مکرمی در و صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ ایک خط ابھی غزنوی صاحب کو لکھا ہے اس کے ضروری مطالب سے وہ آپ کو آگاہ کر دیں گے۔ جموں کے واقعات سخت قابل افسوس ہیں۔ بالا بالا کام سے سب کوشش کے تباہ ہونے کا اندیشہ ۔ ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ۔ اگر اس طرح ایک جگہ کام شروع نہ کیا جاتا تو اس طرح بے دردی سے حملہ کرنے کی ریاست کے عمال کو جرات نہ ہوتی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نظام کی پابندی کی توفیق دے۔ سیاہ نشان کے پروگرام کے متعلق اطلاع نہیں ملی۔ اس طرح کشمیر کے لوگوں کی حقیقی تعداد کا جو اس تحریک سے دلچسپی لیتی ہے خوب پتہ لگ جاتا۔ اور دلوں میں ہر وقت آزادی کی لہر دوڑتی رہتی۔ نہ معلوم ابھی تک عمل شروع ہوا یا نہیں۔ یہ پروگرام بہترین تعمیری پروگرام ہے اور ایک رنگ میں مردم شماری۔ کیونکہ ہر سیاہ نشان لگانے والا بغیر ایک لفظ بولنے کے اپنے مقصد کی تبلیغ بھی کرتا اور دوسرے ایک نظر سے معلوم ہو سکتا کہ کس حد تک لوگ ہمدردی رکھتے ہیں۔ گویا دل بھی مضبوط ہوتے پروپیگنڈا ہوتا اپنوں کو اپنے اثر کا علم ہوتا اور ریاست پر رُعب پڑتا۔ اگر عمل نہیں ہوا تو اب توجہ دلائیں۔ ظاہری نشانات باطنی حالتوں پر خاص روشنی ڈالتے ہیں۔ کل آپ کی تار قانونی امداد کے متعلق ملی ہے۔ پہلے لکھ چکا ہوں کہ قانونی امداد تیار ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے۔ (۱) مقدمات کب شروع ہوں گے۔ (۲) کوشش ہو کہ ایک مجسٹریٹ متواتر ہے ۔ ( ) کمیشن کا اس وقت تک بائیکاٹ ہو جب تک پہلے کمیشن کی رپورٹ ورٹ رونہ ہو اور نئے کمیشن کو مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نہ بنایا جائے۔ ورنہ دو سرا کمیشن بھی مضر ہو گا۔ اور جب تک مسلمانوں کی مظلومیت ثابت نہ ہو کانسٹی ٹیوشنل کمیشن پر زور سفارش نہیں کر کتا۔