انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 144

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۴۴ تحریک آزادی کشمیر حکام ریاست آسانی سے قبضہ نہیں چھوڑیں گے وہیں کا انکار نہیں ہو سکتا کہ محکام ریاست اپنے قبضہ اور تصرف کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے اور جب کہ غیر مسلم، آزادی کی تحریک کو آزادی کی تحریک نہیں بلکہ ایک مذہبی تحریک سمجھ رہے ہیں ، اس وجہ سے رعایا کا ایک حصہ بھی ضرور محکام کی مدد کرے گا اور مقابلہ کی مشکلات گویا دُگنی ہو جائیں گی۔ پس ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرنا کہ دو چار ہفتہ میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا یا چند جتھوں کے لے جانے سے ریاست رعایا کو آزادی دے دے گی ایک غلط خیال ہے اور اس خیال کی موجودگی میں کبھی بھی کامیابی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس خیال کا نتیجہ مایوسی ہو گا اور مایوسی انسان کے ارادہ کو پست اور اس کی کوشش کو کمزور کر دیتی ہے۔ ہر باشندہ کشمیر کو کس ارادہ سے کھڑا ہونا چاہئے کی سب سے برائی خدمت یہ ہوگی سے یہ کہ ہر باشندہ کشمیر جو آزادی کی خواہش رکھتا ہے یہ ارادہ کرلے کہ خواہ میری ساری عمر آزادی کی کوشش میں خرچ ہو جائے میں اس کام میں اسے خرچ کر دوں گا اور آگے اپنی اولاد کو بھی یہی سبق دوں گا کہ اس کوشش میں لگی رہے۔ اور اسی طرح قربانی کے متعلق ہر اک شخص کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آزادی جیسی عزیز شے کے لئے جو کچھ بھی مجھے قربان کرنا پڑے میں قربان کر دوں گا۔ اگر اس قسم کا ارادہ رکھا جائے گا تو لازما درمیانی مشکلات معمولی معلوم ہوں گی اور ہمت بڑھی رہے گی۔ لیکن اگر یہ خیال پیدا ہو گیا کہ بس دو چار ہفتوں میں ہمارا کام ختم ہو جائے گا اور دو چار ہڑتالوں یا دو چار جتھوں سے یہ مہم سر ہو جائے گی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب کام اس سے لمبا ہوا لوگوں میں بد ولی پیدا ہونے لگے گی اور لوگ کہنے لگیں گے کہ ہمارے لیڈروں نے ہم سے دھو کا کیا اور بالکل ممکن ہے کہ مہم سر بام پہنچ کر ناکام ہو جائے اور گوہر مقصود ہاتھ میں آکر پھل جائے۔ چند ماہ کی جدوجہد سے کیا نتیجہ نکلے گا جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر مسلمانان کشمیر کہ سردست آزادی کی مہم میں وہی قربانی کر رہے ہیں صحیح راستہ پر گامزن رہے تو انشاء اللہ نتیجہ مندرجہ ذیل صورت میں نکلے گا۔ اول کچھ عرصہ کی جدوجہد کے بعد جو میرے نزدیک تین چار ماہ کی جدوجہد سے زائد نہ